رفیع صحرائی
جمہوریت کا حقیقی مفہوم ہی عوام کی حکمرانی ہے اور عوام کی حکمرانی کا آغاز ان کی اپنی دہلیز سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسریاں کہا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان نرسریوں کی آبیاری کرنے والے مالی ہی انہیں اجاڑنے پر تلے رہے ہیں۔ دلچسپ بلکہ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں یہ نرسریاں جمہوری حکومتوں کے مقابلے میں آمریت کے ادوار میں زیادہ بہتر انداز میں پروان چڑھتی دکھائی دی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جمہوریت کے دعوے دار سیاسی حکمران مقامی جمہوریت سے اتنے خائف کیوں ہیں؟
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے 7 فروری 2027ء کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ اس سے قبل پنجاب حکومت نے دسمبر اور جنوری میں شدید سردی اور دھند کے باعث انتخابی عملے اور ووٹرز کو درپیش مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے 20 جنوری کے بعد انتخابات کرانے کی درخواست کی تھی۔ حکومت نے انتخابی تیاریوں کے لیے مزید دو ماہ کی مہلت بھی طلب کی تھی۔ اب بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ایک مثبت پیش رفت ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ فروری میں انتخابات کا پہلا مرحلہ ہر صورت مکمل ہوگا اور یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر کسی نئی تاریخ، قانونی پیچیدگی یا انتظامی عذر کی نذر نہیں ہوگا۔ اگر اس بار بھی انتخابات نہ ہوئے تو یہ محض ایک انتخابی شیڈول کی ناکامی نہیں بلکہ مقامی جمہوریت کے ساتھ ایک اور ناانصافی ہوگی۔
بلدیاتی اداروں کی اہمیت سمجھنے کے لیے کسی فلسفے یا سیاسی بحث کی ضرورت نہیں۔ محلے کی ٹوٹی ہوئی سڑک، گلیوں میں کھڑا گندا پانی، پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی، کوڑے کے ڈھیر، خراب اسٹریٹ لائٹس، پارکوں کی ویرانی، تجاوزات اور نکاسی آب کے مسائل وہ بنیادی معاملات ہیں جن سے شہری روزانہ دوچار ہوتے ہیں۔ ایک وزیراعلیٰ یا صوبائی وزیر کے لیے ممکن نہیں کہ وہ صوبے کے ہر گاؤں، قصبے اور محلے کے مسائل خود دیکھے۔ یہ ذمہ داری مقامی نمائندوں کی ہوتی ہے۔ کونسلر، چیئرمین، میئر اور دیگر منتخب عہدیدار اپنے علاقے کے مسائل سے براہ راست واقف ہوتے ہیں۔ وہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ بنتے ہیں۔
افسوس کہ ہمارے سیاسی نظام میں اقتدار کی مرکزیت ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوتے ہی سیاسی جماعتوں کی تمام تر توجہ اقتدار کے حصول، حکومتی استحکام اور آئندہ انتخابی کامیابی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کو اکثر ایک اضافی سیاسی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ حکمران جماعتوں کو اندیشہ رہتا ہے کہ مقامی سطح پر نئی قیادت ابھرنے سے ان کے سیاسی اثرورسوخ میں کمی آسکتی ہے۔ اسی لیے کبھی حلقہ بندیوں کا معاملہ، کبھی قانون سازی، کبھی مالی وسائل کی کمی اور کبھی انتظامی تیاریوں کو جواز بنا کر انتخابات ملتوی کر دیے جاتے ہیں۔ منتخب ادارے اپنی مدت پوری کر لیں تو نئے انتخابات کرانے کے بجائے انہیں ایڈمنسٹریٹروں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ یوں عوام کا حقِ نمائندگی غیر منتخب انتظامیہ کے سپرد ہو جاتا ہے۔
یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی قابلِ غور ہے۔ آمریت کے ادوار میں بلدیاتی نظام کو سیاسی حمایت حاصل کرنے اور نچلی سطح پر اثرورسوخ بڑھانے کے لیے اہمیت دی گئی۔ جنرل ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے نظام سے لے کر جنرل پرویز مشرف کے دور کے بلدیاتی ڈھانچے تک، مقامی حکومتوں کو نسبتاً زیادہ نمایاں کردار دیا گیا۔ تاہم ان نظاموں کا جمہوری جواز اور سیاسی مقاصد اپنی جگہ زیرِ بحث رہے ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بعض ادوار میں مقامی سطح پر ترقیاتی سرگرمیاں اور عوامی نمائندگی زیادہ فعال دکھائی دیں۔ اس کے برعکس جمہوری حکومتوں نے بارہا بلدیاتی اداروں کو اپنے اختیارات میں شریک کرنے سے گریز کیا۔ گویا جمہوریت کے نام پر اقتدار تو عوام سے حاصل کیا جاتا ہے لیکن اسے عوام کی دہلیز تک پہنچانے میں تامل کیا جاتا ہے۔
ایک اور بات بھی اہم ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہی منزل نہیں، اصل امتحان انتخابات کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اگر منتخب کونسلر کے پاس نہ ترقیاتی فنڈز ہوں، نہ عملہ ہو اور نہ ہی اپنے علاقے کے مسائل حل کرنے کا اختیار تو وہ عوام کے سامنے کس منہ سے جواب دہ ہوگا؟ بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی خودمختاری دینا ناگزیر ہے۔ انہیں مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی منصوبے بنانے، بجٹ کی ترجیحات طے کرنے اور متعلقہ محکموں سے کام لینے کا اختیار ملنا چاہیے۔ صوبائی حکومتیں بلا تخصیص سیاسی وابستگی کے فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور آڈٹ کا نظام ضرور قائم کریں لیکن مقامی اداروں کو محض کٹھ پتلی بنا کر نہ رکھیں۔
ایک مضبوط بلدیاتی نظام کرپشن کے امکانات کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ جب ترقیاتی کاموں کی نگرانی مقامی شہری اور ان کے منتخب نمائندے کریں گے تو ناقص تعمیرات، غیر معیاری منصوبوں اور فنڈز کے ضیاع پر فوری گرفت ممکن ہوگی۔ ہر یونین کونسل کی سطح پر بجٹ، ترقیاتی منصوبوں، اخراجات اور مکمل ہونے والے کاموں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جانی چاہئیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شکایات کے اندراج اور ان کے ازالے کا نظام بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور خصوصی افراد کی مؤثر نمائندگی یقینی بنانا بھی ضروری ہے تاکہ مقامی حکومتیں معاشرے کے تمام طبقات کی حقیقی آواز بن سکیں۔
بلدیاتی ادارے سیاسی قیادت کی تربیت گاہیں بھی ہیں۔ آج کے بہت سے قومی اور صوبائی رہنما اپنی سیاسی زندگی کا آغاز مقامی سطح سے کرتے تو انہیں عوام کے مسائل کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملتا۔ ایک کونسلر سے میئر اور پھر صوبائی یا قومی سطح تک پہنچنے کا راستہ سیاسی قیادت کو عوامی تجربہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے برعکس جب مقامی حکومتیں موجود نہ ہوں تو سیاست چند بڑے خاندانوں، بااثر شخصیات اور مخصوص حلقوں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔
اب پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن دونوں کی ذمہ داری ہے کہ 7 فروری 2027ء کے اعلان کو عملی حقیقت بنایا جائے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیں اور اسے اپنی سیاسی برتری کی جنگ کے بجائے عوامی خدمت کا موقع سمجھیں۔ ساتھ ہی قانون میں ایسی ضمانتیں شامل ہونی چاہئیں کہ منتخب بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے سے پہلے نئے انتخابات کا عمل شروع ہو جائے اور کسی صورت مقامی حکومتوں کا خلا پیدا نہ ہو۔
یاد رکھیے! جمہوریت کا اصل چہرہ اسلام آباد، لاہور یا صوبائی دارالحکومتوں کے ایوانوں میں نہیں بلکہ عام شہری کے محلے میں دکھائی دیتا ہے۔ جب کسی غریب کی گلی پختہ ہوگی، بچے صاف پانی پئیں گے، بارش کا پانی گھروں میں داخل نہیں ہوگا، کوڑا بروقت اٹھایا جائے گا اور شہری اپنے منتخب نمائندے سے براہ راست سوال کر سکیں گے تو اسے محسوس ہوگا کہ جمہوریت واقعی اس کے لیے ہے۔ اقتدار کا اصل حسن اسی وقت ہے جب وہ عوام کی دہلیز تک پہنچے۔ فروری 2027ء کے بلدیاتی انتخابات اس سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اللہ کرے یہ تاریخ بھی ماضی کی طرح کسی سیاسی مصلحت کی نذر نہ ہو۔ اب وقت آگیا ہے کہ جمہوریت کی ان اجڑی ہوئی نرسریوں کو دوبارہ آباد کیا جائے، کیونکہ مضبوط بلدیاتی اداروں کے بغیر مضبوط جمہوریت کا خواب شرمند? تعبیر نہیں ہو سکتا