ہندو یاتریوں کو داخلے سے انکار مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی نوعیت کا معاملہ تھا
بابا گرونانک دیو جی کی تقریبات کے لئے 2400 سے زائد ویزے جاری کئے: ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد( آن لائن ) پاکستان نے ہندو برادری کے افراد کو داخلے سے روکنے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ یہ معاملہ مکمل طور پر انتظامی نوعیت کا تھا اور اس میں کسی بھی مذہبی امتیاز کا کوئی عنصر شامل نہیں تھا۔ترجمان کے مطابق، پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی نے بابا گرونانک دیو جی کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے 2400 سے زائد ویزے جاری کیے۔ چار نومبر کو 1932 بھارتی یاتری اٹاری-واہگہ سرحد کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے۔دفتر خارجہ نے بتایا کہ بھارتی حکام نے تقریباً 300 ویزہ ہولڈرز کو سرحد پار کرنے سے روکا، جب کہ پاکستان کی جانب سے امیگریشن کا عمل مکمل طور پر منظم، شفاف اور بلا رکاوٹ رہا۔ترجمان نے کہا کہ صرف چند افراد کے کاغذات نامکمل تھے جنہیں واپس جانے کا کہا گیا۔ ‘‘داخلے سے انکار مذہبی بنیادوں پر نہیں کیا گیا