ویب ڈیسک: جنوبی افریقہ کے بلے باز ڈیوڈ ملر نے چیمپئنز ٹرافی 2025 سے باہر ہونے کے بعد آئی سی سی کے سفر نظام پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم کو مناسب آرام کا وقت نہیں مل سکا اور انہیں زیادہ سفر کرنا پڑا۔ملر نے چیمپئنز ٹرافی کے دوسرے سیمی فائنل میں 67 گیندوں پر ناقابل شکست سنچری اسکور کی تھی، جو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی تاریخ کی تیز ترین سنچری تھی۔ تاہم، ان کی اس شاندار اننگز کے باوجود جنوبی افریقہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ملر نے آئی سی سی کے سفر نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مسلسل سفر کرنا پڑا، اور اس دوران آرام کے لئے وقت بالکل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ فلائٹ کا دورانیہ صرف 1 گھنٹہ 40 منٹ تھا، جس کی وجہ سے وہاں بھی آرام کرنا ممکن نہیں تھا۔ "یہ ایک صبح کی فلائٹ تھی، اور ہمیں میچ کے بعد سفر کرنا پڑا۔ دبئی پہنچے تو شام 4 بجے، اور پھر صبح 7:30 بجے ہمیں واپس لوٹنا پڑا۔ ایسا نہیں تھا کہ ہم 5 گھنٹے کی فلائٹ سے واپس آ رہے تھے،" ملر نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سفر کے دوران ان کے پاس آرام کرنے اور پوری طرح سے ٹھیک ہونے کا مناسب وقت نہیں تھا، اور یہ حالات ان کے لیے مثالی نہیں تھے۔واضح رہے کہ اس ٹورنامنٹ کا ہائبرڈ ماڈل تھا، جس میں بھارتی ٹیم اپنے تمام میچ دبئی میں کھیل رہی تھی، جبکہ باقی ٹیموں کو پاکستان میں میچ کھیلنے پڑے۔ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا جیسے سیمی فائنلسٹ کو پاکستان سے دبئی پہنچنا پڑا تھا، اور جنوبی افریقہ کو ایک بار پھر پاکستان لوٹنا پڑا کیونکہ ان کا سیمی فائنل لاہور میں کھیلا جانا تھا۔ ملر نے اس اضافی سفر کو غلط قرار دیا۔