وزیراعظم کی ہدایت پر کپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور وزارتِ قومی صحت کی مشترکہ کارروائی کے تحت وفاقی دارالحکومت سے 29,115 پولن الرجی والے پیپر ملبری (جنگلی شہتوت) درخت ہٹا دیے گئے۔
اعلامیہ کے مطابق یہ کارروائی تین مرحلوں پر مشتمل سائنسی آپریشن کے تحت مکمل کی گئی، جس میں ایف نائن پارک، شکرپڑیاں اور بڑے سیکٹرز شامل تھے۔ ہر اکھاڑے گئے درخت کے بدلے 3 نئے مقامی درخت لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اب تک متعلقہ علاقوں میں 40,000 سے زائد ماحول دوست درخت لگائے جا چکے ہیں، جبکہ نجی شعبے اور او جی ڈی سی ایل کے تعاون سے مزید 18,000 درخت لگانے کے لیے ٹینڈر جاری کیا جا چکا ہے۔ شکرپڑیاں میں 81 ایکڑ پر بحالی کا کام جاری ہے اور منصوبے کو اپریل 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ اس اقدام سے پولن الرجی کے مریضوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ گزشتہ دو سال میں پولن ویکسینیشن کیسز میں 23 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، اور 2023 کے مقابلے میں 2025 میں الرجی کے کیسز نصف سے بھی کم رہ گئے، نومبر اور دسمبر 2025 میں پولن کیسز ریکارڈ حد تک کم رپورٹ ہوئے۔