اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے سمندری شعبے کی مکمل بحالی کے لیے ایک جامع اصلاحاتی منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پاکستان میری ٹائم اینڈ سی پورٹ اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔
اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل
اصلاحاتی منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی وزیر دفاع کریں گے۔ کمیٹی میں مختلف اداروں کے اعلیٰ افسران شامل ہوں گے اور ہر پندرہ روز بعد اجلاس منعقد ہوگا تاکہ منصوبے کی پیشرفت کا جائزہ لیا جا سکے۔
اہم اقدامات
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیم نو,نیشنل پورٹس ماسٹر پلان کی تجدید,ملک کی تمام بندرگاہوں کے ٹیرف کا یکساں معیار پر لانا,بندرگاہوں کی ڈیجٹلائزیشن,آبی زراعت سمیت دیگر متعلقہ شعبوں پر خصوصی توجہ,نئے ٹرمینلز کی تعمیر
پاکستان کو سالانہ 5 کھرب روپے کا نقصان
ماہرین کے مطابق، پاکستان کو میری ٹائم سیکٹر میں سالانہ پانچ کھرب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں:
✔️ بندرگاہوں کی مکمل صلاحیت کا استعمال نہ ہونا
✔️ ٹیکس چوری اور جعلی بلنگ
✔️ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سسٹم کا غلط استعمال
ماہرین کے مطابق، صرف میری ٹائم شعبے میں ٹیکس چوری کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 1120 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین نے اس جامع اصلاحاتی منصوبے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بندرگاہوں کی ڈیجٹلائزیشن اور مؤثر اصلاحات سے ملکی معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوگا۔