اسلام آباد:وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں نوجوانوں کو مارکیٹ اور صنعتوں میں درکار ہنر کی تربیت فراہم کرنے کے لیے ایک نیا منصوبہ منظور کیا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا اور ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ وہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔وزیرِ اعظم نے اس منصوبے کے عمل درآمد کی خود نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ماہانہ اجلاسوں کی صدارت کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی صنعتوں کی ضروریات اور عالمی سطح پر افرادی قوت کی کھپت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع ڈیٹا بیس تیار کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو بہتر تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ "پاکستان کے باصلاحیت نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی تربیت سے نہ صرف انہیں بااختیار بنایا جائے گا بلکہ ملک میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔" انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ افرادی قوت کی برآمد کے امکانات کو بڑھایا جا سکے۔
قبل ازیں، وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پلان پر ایک جائزہ اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں مختلف اداروں کے ذریعے نوجوانوں کو تربیت اور روزگار فراہم کرنے کے لائحہ عمل پر گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ آئندہ چار سالوں میں سالانہ 24 لاکھ سے 60 لاکھ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ روزگار حاصل کر سکیں۔مزید برآں، وزیرِ اعظم کو اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل یوتھ حب حتمی مراحل میں ہے اور اسے رواں ماہ کے آخر تک لانچ کیا جائے گا، جس کا مقصد نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں مواقع فراہم کرنا ہے۔وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی کوششوں کی تعریف کی اور انہیں مزید مؤثر اقدامات کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، چیئرمین وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔