چنئی: بھارتی شہر چنئی میں ایک دل دہلا دینے والے قتل کیس میں پولیس نے لاش کی شناخت صرف دو منفرد ٹیٹوز اور زیورات کی مدد سے کی، جس کے بعد یہ معلوم ہوا کہ مقتولہ ایک ابھرتی ہوئی تامل اداکارہ سندھیہ ہے۔
واقعہ کے مطابق، چنئی میں کچرے کے ڈھیر کے قریب ایک پلاسٹک بیگ سے انسانی انگلیاں باہر نکلنے پر شہریوں نے اطلاع دی۔ بیگ کھولنے پر ایک کٹا ہوا ہاتھ، ٹانگیں اور دیگر حصے برآمد ہوئے۔ بعد میں مختلف علاقوں سے ملنے والے پلاسٹک بیگز میں انسانی ہڈیاں اور اعضاء ملے، جن سے تحقیق کے بعد یہ ثابت ہوا کہ یہ ایک ہی خاتون کی لاش ہے۔پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ مقتولہ کو تیز دھار آلے سے قتل کر کے ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا ہے، تاہم لاش کا سر اور بایاں ہاتھ غائب ہیں، جس کی وجہ سے شناخت مشکل ہو گئی تھی۔تفتیش کے دوران پولیس کو مقتولہ کے دائیں ہاتھ پر بنے دو منفرد ٹیٹوز نظر آئے، جن میں ایک پر ہندو دیوتا شیو اور دیوی پاروتی کی تصویر تھی، اور دوسرا ڈریگن کا ٹیٹو تھا۔اسی دوران ایک خاتون نے اپنی بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی، جس میں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی 37 سالہ ابھرتی تامل اداکارہ سندھیہ ہے، جو چنئی میں اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ رہتی ہے۔
خاتون کی تصدیق کے بعد، پولیس نے مقتولہ کی والدہ کو برآمد شدہ اعضاء کے نشانات دکھائے، جن پر انہوں نے اپنی بیٹی کو پہچان لیا، اور ڈی این اے ٹیسٹ نے بھی تصدیق کر دی کہ یہ اعضاء سندھیہ کے ہیں۔شناخت کے بعد، پولیس نے سندھیہ کے شوہر بالاکرشنن سے تفتیش شروع کی، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھیہ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی اور واپس نہیں آئی۔ تاہم، پولیس کے مطابق، بالاکرشنن کے بیانات میں تضاد پایا گیا، اور بعد میں اس نے قتل کا اعتراف بھی کر لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ بالاکرشنن اور سندھیہ کے درمیان جھگڑا ہوا اور مبینہ طور پر اس نے کلہاڑی سے حملہ کر کے بیوی کو قتل کیا، پھر لاش کے ٹکڑے کیے اور مختلف مقامات پر پلاسٹک تھیلوں میں پھینک دیے۔بھارتی میڈیا کے مطابق، پولیس نے قتل کا راز حل کر لیا ہے، مقتولہ کی شناخت بھی ہو گئی ہے اور بیشتر حصے برآمد بھی کر لیے گئے ہیں، تاہم، سندھیہ کا سر اور بایاں ہاتھ تاحال نہیں ملے ہیں۔