آئینی ترمیم اتفاقِ رائے سے منظوری وزیر اعظم اہم ٹاسک دیدیا سردار ایاز صادق
شہر اقتدار میں جو ڑتوڑ، سیاسی ہلچل، اسپیکر پارلیمانی رہنماوں سے الگ الگ ملیں گے، اتفاقِ رائے نہ ہوا تو حکومت اپنی نمبرز گیم پر انحصار کرے گی، وزیراعظم شہباز شریف ایم کیو ایم کو اعتماد میں لیں گے
سپیکر سردار ایاز صادق تمام جماعتوں سے ترمیم کی حمایت کی درخواست کریں گے، مسلم لیگ (ن) نے اپنے اور اتحادی جماعتوں کے تمام اراکینِ قومی اسمبلی کو فوری اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے 27 ویں ترمیم کے تناظر میں وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے دورے منسوخ کر دیئے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے تمام وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کر دی، 27 ویںآئینی ترمیم پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اہم ٹاسک دے دیا۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی نے تمام پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس آج شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس کے سپیکر لاؤنج میں طلب کر لیا ہے، اجلاس میں تحریکِ انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت تمام بڑی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور اتحادی جماعتوں کے چیف وہپس کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔اجلاس میں آئینی ترمیم کے خدو خال پر بریفنگ دی جائے گی اور منظوری سے متعلق حکومتی حکمتِ عملی طے کی جائے گی، سپیکر سردار ایاز صادق اجلاس کے دوران تمام جماعتوں سے ترمیم کی حمایت کی درخواست کریں گے، جب کہ وہ پارلیمانی رہنماؤں سے اپنے چیمبر میں الگ الگ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ذرائع کے مطابق اگر ترمیم پر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا تو حکومت اپنی نمبرز گیم پر انحصار کرے گی، مسلم لیگ (ن) نے اپنے اور اتحادی جماعتوں کے تمام اراکینِ قومی اسمبلی کو فوری طور پر اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکمراں اتحاد کو قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے درکار 224 اراکین کی حمایت حاصل ہے
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) 27ویں آئینی ترمیم 14 نومبر تک دونوں ایوانوں سے منظور کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹیوں کے رہنماؤں کا اجلاس نہ ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پی ٹی آئی کے سوا تمام جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔ ہاوس بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں طے پایا کہ 27ویں آئینی ترمیم پہلے سینیٹ سے پاس کی جائے گی، سینیٹ سے پاس ہونے کے بعد قومی اسمبلی سے پاس کروائی جائے گی۔ پارلیمنٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے معاملے پر حکومت کو قومی اسمبلی میں 237 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں ن لیگی ارکان کی تعداد 125، پیپلز پارٹی کے 74 ارکان ہیں، حکومت کو قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کے لیے 237 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔