پاکستان‘ایران کا سرحدی امور سمیت دہشتگردی کے چیلنجوں سے مل کر نمٹنے پر اتفاق

  غزہ میں فوری جنگ بند کی جائے، اسرائیلی حملے ایران کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
 دہشت گردی پاکستان اور ایران  کیلئے مشترکہ چیلنج ہے ،مسئلہ فلسطین پر پاکستان کا موقف واضح اور دو ٹوک ہے، ایرانی وزیرخارجہ
  اسلام آباد(آئی این  پی )پاکستان اور ایران نے سرحدی امور سمیت دہشت گردی کے چیلنجز سے مل کر نمٹنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ اتفاق رائے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی  وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم  سینیٹراسحاق ڈار سے ملاقات میں طے پایا۔نائب وزیراعظم  و زیرخارجہ اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ آمد پر ایرانی وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا دفتر خارجہ آمد پر  استقبال کیا۔ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، مشرق وسطی کی صورتحال اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا ‘ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے   کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ سے مشرق وسطی کی صورتحال پربات ہوئی۔انہوں نے کہا غزہ میں اسرائیل کی جانب سے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ مشرق وسطی میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے ایران کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل اپنے قبضے کو طول دینے کے لیے خطے میں دہشت گردی کر رہا ہے، مشرق وسطی میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی، خطے میں جارحیت فوری بند کرے، قابض قوتوں کے دہشت گردی کے ذریعے قبضے کی مذمت کرتے ہیں۔ اس موقع پر  خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے  کہا   کہ دہشت گردی پاکستان اور ایران دونوں ملکوں کے لیے مشترکہ چیلنج ہے۔ایرانی وزیر خارجہ   نے کہا ہے پاکستان کا مسئلہ فلسطین پر واضح اور دو ٹوک موقف ہے۔ اقوام عالم فلسطین میں جاری نسل کشی رکوانے میں ناکام رہیں۔انہوں نے کہا کہ خطے میں اسرائیلی جارحیت رکوانے کے لیے اجتماعی کاوشیں درکار ہیں۔ پاکستان فلسطین اور لبنان کے مہاجرین کی انسانی بنیادوں پر مدد کررہا ہے۔ دہشت گردی دونوں ملکوں کے لیے مشترکہ چیلنج ہے۔  ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نشل کشی کر رہا ہے