ہنٹا وائرس سے متاثرہ کروز میں تین ہلاکتوں کے بعد مزید دو افراد متاثر، 150 تاحال محصور

لندن(آئی این پی )سمندر میں سفر کے دوران پرتعیش کروز میں پھوٹنے والی وبا سے تین افراد کی ہلاکت کے بعد دو مزید مسافروں میں ہنٹا وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں جبکہ 150 کے قریب افراد اب بھی جہاز کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے ر ائٹرز کے مطابق طبی ماہرین مغربی افریقہ کے قریب موجود جہاز سے متاثرہ افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کروز میں موجود زیادہ تر لوگ برطانوی، امریکی اور ہسپانوی ہیں۔نیدرلینڈز کا نیشنل انسٹیٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرمنٹ جو وبا کو کنٹرول کرنے میں مدد دے رہے ہیں، کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جن دو افراد میں علامات ظاہر ہوئیں ان میں سے ایک میں ہنٹا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔رپورٹ نے سورسز کا حوالہ دیا ہے کہ اسی کروز پر سوار ہلاک ہونے والی ڈچ خاتون کا ٹیسٹ بھی پازیٹیو آیا تھا۔طبی اداروں کا کہنا ہے مرنے والے دوسرے دو افراد کے بارے میں یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان کی موت بھی اسی وائرس کی وجہ سے ہوئی۔ہنٹا وائرس سے سانس لینے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور یہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنٹا وائرس کا تعلق چوہوں سے ہے اور وہیں پر پھیلتا ہے جہاں چوہے رہتے ہوں اور ان کی گندگی کے ذرات خشک ہونے پر ہوا میں شامل ہو جائے تو سانس لیتے وقت اندر جا سکتے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس انسانوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا۔وائرس کا شکار ہونے کے بعد علاج کے لیے کوئی خاص دوائیں موجود نہیں اس لیے توجہ ایسی چیزوں پر دی جاتی ہے جو بیماری کو بڑھنے سے روک سکیں جن میں مریضوں کو وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا بھی شامل ہے