غلام علی جاوید
شہرت ایسا لفظ ہے جو کسی انسان، مقام یا چیز کی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔یہ لفظ ہر ذی شعور انسان کو بھاتا ہے ۔ اگر شہرت اچھی ہو تو پھر کیا ہی کہنے۔شہرت کا آغاز اُسی روز سے ہو گیا تھا جس دن پہلے انسان کی تخلیق کی گئی تھی۔تاریخی اوراق بتاتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں مصری، یونانی، رومی اور ایرانی تہذیبوں نے شہرت سمیٹی ہوئی تھی۔بعد ازاںمختلف شخصیات اپنے کارناموں کی بدولت شہرت پانے لگیںجیسے سکندر اعظم فتوحات کی بدولت مشہور ہوئے، ان کی بہادری کا دنیا بھر میں طوطی بولنے لگا۔ فرعون حکمرانی اور ظلم کی وجہ سے نہ صرف مشہور ہوا بلکہ اپنے انجام کو پہنچا، اس کا ظلم اور انجام دونوں مشہور ہوئے۔حضرت سلیمان علیہ السلام عدالتی اور منصفی معاملات میں مشہور ہوئے۔ افلاطون ، سقراط اورارسطو فلسفے اور ایجادات میں اپنا نام زندہ کر گئے۔آئن سٹائن سائنسی کتب میں ایک باب بن گئے۔ اشوک اور گوتم مذہب بدھ مت میںتاریخ کا حصہ بن گئے۔حضرت محمد ﷺ عالمی رہنما کے طور پرسر فہرست ٹھہرے، اسلام کے بانی اور ختم نبوت کی ملکیت کا شرف حاصل ہوا۔ کمال اتاترک ریاستی تخلیقی لحاظ سے بام ِ عروج پر جا پہنچے۔ ہٹلر ظلم و تنازعتی لحاظ سے مشہور ہوا۔ محمود غزنوی جنگی نقطہ نظر سے، حاتم طائی سخاوت کے لحاظ سے، قائداعظم پاکستان کی تخلیق کے لحاظ سے ، علامہ اقبال فلسفے میں،عبدالستار ایدھی انسانی ہمدردی میں، ڈاکٹر عبدالسلام فزکس میںنوبل پرائزحاصل کر کے شہرت پاگئے۔ ایوب خان ، پرویز مشرف فوجی اور سیاسی معاملات میں، بے نظیر بھٹو سیاست میںاورعمران خان کھیل میںمشہور ہوئے۔
انسانی فطرت میں دوسروں کے ساتھ تعلقات بنانا، جتانا، تعلقات نبھانا، اپنی طرف متوجہ کرنااور اپنی موجودگی کا احساس دلانا شامل ہے۔جیسے ہی انسان کو دنیاداری کی ہوا لگتی ہے اس کو شہرت کی لت لگ جاتی ہے۔پھر وہ طرح طرح کے ڈھنگ لگاتا ہے کہ کسی طرح لوگوں کی نظروں میں آجائے اور لوگ اس کو پسند کریں۔وہ اپنوںاور غیروں میں جانا جائے۔اس کی مدح سرائی حلقہ عام میں ہو ،اس کا ذکر ہر کام میںہو۔ جب تک کسی انسان یا حیوان کی ہوس پوری نہیں ہوتی وہ اپنے شکار کے لئے گھات میں رہتا ہے۔ شہرت بھی اُسی کی ایک کڑی ہے جو اپنے حصول تک لڑتی رہتی ہے۔
برصغیر میںنہ صرف پگڑیوں کے لمبے شملے اور لمبی مونچھیںوجہ شہرت ہوا کرتی تھیںبلکہ بعض لوگوں کو بہادری نے مشہور کر دیا۔اونچے چوبارے بھی وجہ شہرت تھے۔ ڈیرہ داری نظام بھی گائوں کی شان تصور کیا جاتا تھا۔ انسان کا کردار بھی وجہ شہرت بنتا رہا خواہ کردار اچھا ہو یا برا۔
میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں
مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے
اگرپاکستانی روایات کو ماضی کے جھروکے میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بزرگ سر پرپگڑی کے علاوہ باہر نکلنا معیوب سمجھتے تھے جبکہ عورتیں
برقعے کے بغیر باہر جانا تذلیل سمجھتی تھیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر تصویر بنانا یا مووی کیمرے کے سامنے آناخاندانی ہتک عزت تصور ہوتا تھا۔ انٹر نیٹ کے آنے سے حالات نے ایسی انگڑائی لی کہ یکسر طور طریقے بدل گئے ۔ شرم و حیا بے حیائی کی چکی میں پس گئے ۔رشتوں کا تقدس پامال ہونے لگا ۔کسی وقت میںماں اپنی بیٹی کو پہلو میں بٹھاکرتربیت کرتی تھی، آدابِ زندگیبتاتی تھی۔ خاندانی روایات کا درس دیتی تھی ۔ باورچی خانے کے ہنر سکھاتی تھی۔ اب ماں موبائل پر مصروف ہے۔ٹی وی ڈراموں نے اُسے اپنی ذمہ داریوں سے غافل کر دیا ہے جبکہ بیٹی سوشل میڈیا میں مگن نظر آتی ہے۔موجودہ دور میںجہاں سوشل میڈیا سستا اور فوری شہرت کا ذریعہ ہے وہاں بے حیائی کا نقارہ بھی ہے۔افسوس یہ ہے کہ بہت سے معززگھرانوں کے لڑکے اور لڑکیاں بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے ہیں ۔ جوبات بہت تکلیف دہ ہے وہ یہ ہے کہ محض چند ڈالر یا روپوں کے حصول کے لئے موجودہ نسل اس تیز بگولے میں الجھ گئی ہے۔باریش مرد بھی اس شوق سے وابستہ ہو گئے ہیں۔عمر رسیدہ خواتین سوشل میڈیا کی فضائوں میں اڑنے لگی ہیں۔
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا
کچھ لوگ کیمروں کو بیڈ رومز تک لے گئے ہیں۔ فیملی عکس بند ہونے لگی ہے۔ باپ بیٹیاں مل کے سوشل میڈیا کی رونق بننے لگے ہیں۔ معصوم باپ اُس وقت سے غافل ہو گیا کہ جب یہی بچے اخلاقی قدروں کی دیوار پار کر جائیں گے ۔ پھر باپ کو نہ تو زمین میںگھسنے کی جگہ ملے گی اور نہ ہی آسمان کی بلندیوں میں چھپ سکے گا۔جب علمائے دین یا بزرگوں سے قیامت کی نشانیوںکے بارے سنتے تھے تو دنگ رہ جاتے تھے کہ ایسا بھی زمانہ آئے گا، لوگ اسلام سے اتنے دور ہوجائیںگے۔ بے حیائی سر چڑھ کے بولے گی۔سستی شہرت کے بھوکے مردو زن اپنی اخلاقی قدروںکو کھو بیٹھیں گے ۔ مذہبی روایات بھلا بیٹھیں گے۔بھوکی شہرت محفلوں ، مجمعوں اور شاہراہوں پہ ناچے گی۔خاندانی شرم و حیا دم توڑے گی۔ فیس بُک، ٹویٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک پر کچھ نوجوان لڑکے لڑکیوں نے تو تمام حدیں پار کر دی ہیں۔انسان جن کو بتانے سے شرمائے اور دیکھنے پہ دل جلائے۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی