آذربائیجان کا ایرانی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ،امریکی،اسرائیلی حملے جاری
ایران کا اسرائیل کے 3اہداف حملہ ،ابوظہبی میں ڈرون ملبے سے6پاکستانی زخمی
تہران (خصوصی رپورٹ)اسرائیل امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہوئے 6روز گزرگئے ،مشرق وسطیٰ میں حملے اور جوابی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں،ادھرآذربائیجان کے ایئرپورٹ پر مبینہ ایرانی ڈرون حملہ میں 4افرادزخمی ہوگئے جس کے بعد آذری صدر الہام نے ایران کو جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی ہے جس کے باعث جنگ مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔ تہران، دوحہ اور بیروت جیسے شہروں سے ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں بڑے پیمانے پر نقصان اور آسمان کی جانب گہرے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں، ایران پر اسرائیل و امریکا نے 5 ہزار ٹن سے زیادہ گولہ بارود برسا دیا،ہسپتالوں اور سکولوں سمیت مختلف اہداف پرحملوں میں ایرانی شہدا کی تعداد 1230 ہوگئی ہے ،پاسدارن انقلاب نے امریکی ٹینکر اور جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی فوج نے کرد علیحدگی پسندوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے ہیڈکوارٹر اور اسلحہ ڈپو تباہ کردیا۔ا?بنائے ہرمز بدستور بندہے اور پاسدران انقلاب کاکہناہے کہ امریکا ہرمز سے جہاز نکلوا سکتا ہے تو آ کر دکھائے ، ابو ظہبی میں ڈرونز کا ملبہ گِرنے سے6 پاکستانی شہریوں سمیت 7 افراد زخمی ہوئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے مسلسل چھٹے روز بھی جاری رہے ،ہسپتالوں اور سکولوں سمیت مختلف اہداف پر حملوں میں اب تک 1230 افراد شہید ہوگئے، اسرائیل پر ایرانی حملوں میں 11 افراد ہلاک ہوئے جن میں 6 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں حملوں سے 3 افراد جبکہ بحرین میں میزائل مار گرانے پر صنعتی علاقے میں آگ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔ کویت میں ایرانی حملوں سے 2 کویتی فوجیوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے۔عمان کی بندرگاہ پر ٹینکر پر پروجیکٹائل حملے سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہو ں نے جمعرات کی صبح چھ بیلسٹک میزائلوں اور 131 ڈرونز کو اپنے اہداف کی جانب بڑھنے سے قبل فضا میں ہی تباہ کر دیا تاہم ایک بیلسٹک میزائل اور چھ ڈرونز ملک کے اندر مختلف مقامات پر گرے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری لڑائی کے دوران اب تک 196 بیلسٹک میزائلوں اور آٹھ کروز میزائلوں کوفضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے نیول کمانڈر نے کہا ہے کہ امریکا ہرمز سے جہاز نکلوا سکتا ہے تو آ کر دکھائے،ہم نے ابھی سمندر میں میزائل اور ڈرون کے علاوہ کچھ بڑا ظاہر ہی نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی تک ہرمز کھولنے کیلئیجہاز نہ بھیج سکے، طاقت کا توازن واضح ہے۔ خلیج فارس ہمارا آپریشنل علاقہ ہے، امریکا یہاں سے نکل جائے۔ایران کے سرکاری ٹیلی وڑن کے مطابق اس کی بحریہ کے جنگی دستوں نے جمعرات کی صبح خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں ایک امریکی ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے جس سے اس میں آگ لگ گئی۔پاسداران انقلاب نے ایک روز قبل امریکی ایف 15طیارہ مارگرانے کا دعویٰ بھی کیا ، دو نشستوں والا یہ ملٹی رول سٹرائیک فائٹر طیارہ ایران کی جنوب مغربی سرحد کے قریب تباہ کیاگیا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ہم نے علیحدگی پسند دہشت گردوں کے ہیڈکوارٹر اور اسلحہ ڈپو کو تباہ کیا،دہشت گرد گروہ مغربی سرحد سے ہمارے ملک میں داخل ہونا چاہتے تھے،وہ امریکی ایما پر ہمارے مل میں انتشار پھیلانے کے مشن پر تھے جبکہ عراقی کردستان کے صدر نے ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا ہے۔ ترکیہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ کردستان فری لائف پارٹی سمیت کرد عسکریت پسند گروپوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے حملوں میں جان بوجھ کر شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آذربائیجان کے علاقے نخ چیوان کے ایک ہوائی اڈے پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کئے گئے جس میں 4افراد زخمی ہوگئے،اس واقعہ سیمشرق وسطیٰ کی جاری جنگ مزید پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔سیکرٹری پراسکیوٹر جنرل کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں کم ازکم چار ڈرون استعمال کئے گئے جو ایران سے ہماری حدودمیں داخل ہوئے ،فوج نے ایک ڈرون کو تباہ کردیا۔ اس حملے سے نخچیوان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بعض حصوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے ایران پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ دوسری جانب ایران نے حملے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار آذربائیجان کے اتحادی اسرائیل کو قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات کا مقصد مسلم ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنا ہے۔آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ نے ایران کے سفیر کو طلب کیا اور وزیرِ خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اس حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔اس واقعہ کے بعد آذربائیجان نے اپنے جنوبی حصے کی فضائی حدود کے ایک حصہ بند کر دیا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے تکنیکی وجوہات کے سبب آذربائیجان کے ساتھ اپنی سرحد بند کردی، سرحد پر پاکستانی بھی موجود ہیں، ایران کی طرف سے پاکستانیوں کو بھی انتظار کرنے کا کہا گیا ہے۔ابوظہبی میں حکام کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہاگیاہے کہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایک ڈرون کو مار گرایا گیا جس کے بعد اس کے ملبے اور ٹکڑے لگنے کے باعث چھ پاکستانی اور ایک نیپالی شہری زخمی ہوئے۔ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف خرمشہر 4 سٹریٹجک بیلسٹک میزائل داغے گئے،ان میزائلوں نے تل ابیب کے مرکز، بن گوریون ایئرپورٹ اور اسرائیلی فضائیہ کے 27ویں سکواڈرن کے اڈے کو نشانہ بنایا۔خرمشہر 4 میزائل تقریباً 13 میٹر لمبا اور تقریباً 30 ٹن وزنی ہے اور ایک ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،اس میزائل کی زیادہ سے زیادہ رفتارا?واز کی رفتار سے 16 گنا زیادہ تک جاسکتی ہے۔ اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی جانب بڑی تعداد میں میزائل داغے ہیں تاہم دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے کیلئے فعال ہے اور متعلقہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو اْن کے فونز پر وارننگ بھیجی جا چکی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں اور بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کے بعد یورپی ممالک نے قبرص کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنے بحری اثاثے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔اطالوی وزیر دفاع گوئیدو کروسیٹو نے کہا ہے کہ اٹلی قبرص کے تحفظ کے لیے اپنے بحری اثاثے قبرص کی جانب روانہ کرے گا، سپین، فرانس اور نیدرلینڈز کی جانب سے بھی اس میں شامل ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بحرین انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 75 ایرانی میزائل اور 123 ڈرونز کو فضا میں کامیابی سے نشانہ بنایا اور انہیں تباہ کر دیا ہے۔ سعودی عرب نے دعوی کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے تین کروز میزائل مار گرا کر تباہ کر دئیے ہیں۔سعودی وزارت دفاع کے مطابق تین کروز میزائلوں کو الخرج شہر کے باہر فضا میں نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ لبنان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں اسرائیل کے متعدد فضائی حملوں میں 10افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔لبنان کے شمالی شہر تریپولی میں واقع فلسطینی مہاجر کیمپ پر اسرائیلی ڈرون حملے میں حماس کے سینئر عہدیدار اہلیہ سمیت شہید ہو گئے،ان کی ایک بیٹی بھی زخمی ہوئی۔ جنوبی لبنان میونسپیلٹی القلیلہ کے قریب ایک گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں 3افراد شہید ، زحل روڈ پر ایک اور ڈرون حملے میں2 افراد شہید ہو گئے۔ قصبوں زوطر اورفرتبنیت میں تین فضائی حملوں میں 3 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات میں مقیم لوگوں کیلئے انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے گھر خالی کردیں۔فرانسیسی وزیرِ خارجہ جین نول بیروٹ کی ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ،انہوں نے ایرانی حملوں کی مخالفت کی اورایران میں زیرِ حراست فرانسیسی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ چین ثالثی کیلئے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجے گا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اورکہاکہ تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کی سرخ لکیر کو عبور نہیں کیا جانا چاہئے اور نہ ہی توانائی اور غیر عسکری اہداف پر حملے کرنے چاہئیں۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم انتونی البانیزنے کہا ہے کہ آسٹریلیا نے مشرق وسطیٰ میں فوجی اثاثے تعینات کئے ہیں تاکہ ہنگامی صورت حال میں مدد فراہم کی جا سکے۔ میں ان آسٹریلوی شہریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو خطرناک حالات میں اپنے ہم وطنوں کی مدد کیلئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اثاثوں کی نوعیت کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کی تاہم مقامی خبر رساں ادارے ایس بی ایس نے رپورٹ کیاہے کہ یہ ہوائی جہاز ہو سکتے ہیں۔اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کو فضائی دفاعی امداد بھیجے گی، جہاں ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں حملے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امداد صرف دوستانہ تعلقات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ علاقے میں لاکھوں اطالوی باشندے اور تقریباً 2ہزار فوجی موجود ہیں جن کی حفاظت ضروری ہے۔ یہ امداد دفاعی نوعیت کی ہوگی اور فضائی حملوں سے تحفظ فراہم کرے گی بالکل جیسے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کر رہے ہیں۔فرانس نے امریکی معاون طیاروں کو ائیر بیس استعمال کرنیکی اجازت دیدی تاہم یقین دہانی حاصل کی گئی ہے کہ یہ طیارے ایران پر حملوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ فرانس نے مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی تیاریوں کے تحت طیارہ بردار جہاز بھی بحیرہ روم بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔