سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف بھی عدالت نے غلط فیصلہ دیا تھا‘اس کیس کے دوران میں نے عدالت میں چند جملے بولے تھے جس کا ججوں کے پاس جواب نہیں تھا
پاناما کیس کے بارے میں عمران خان نے مجھے سے مشورہ مانگا تھا کیا ہم یہ کیس جیت جائیں گے‘میں نے عمران خان کو کہا تھا وہ نوازشریف کے خلاف کیس نہیں جیت سکتے
میرے مشورے پر عمل کیا جاتا تو ایک دوسرے کے خلاف سیاسی کیس نہ بنتے‘چاہے مرضی کے جج لگائیں مگر انہیں لگائیں جنہوں نے کام کیا ہو:معروف قانون دان کا پبلک نیوز کے بیورو چیف عدنان ملک کو انٹرویو
لاہور(عدنان ملک)معر وف قانون دان عرفان قادر نے پبلک نیوز کے بیورو چیف عدنان ملک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے سپریم کورٹ نے پانامہ کیس سمیت کئی کیسوں کے غلط فیصلے کئے‘سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف بھی عدالت نے غلط فیصلہ دیا تھا‘اس کیس کے دوران میں نے عدالت میں چند جملے بولے تھے جس کا ججوں کے پاس جواب نہیں تھا‘میں نے کہا تھا اس وقت سپریم کورٹ کو یوسف رضا گیلانی سے معافی مانگنی چاہیے‘انہوں نے کہا پاناما کیس کے بارے میں عمران خان نے مجھ سے مشورہ مانگا تھا کہ کیا ہم یہ کیس جیت جائیں گے‘میں نے عمران خان کو منع کیا تھا وہ کیس دائر نہ کریں وہ نوازشریف کے خلاف کیس نہیں جیت سکتے مگر عدالت نے پانامہ کیس میں نوازشریف کے خلاف فیصلہ دے دیا‘انہوں نے کہا میں نے سب کو مشورہ دیا تھا قانون کے مطابق چلیں یہ اس پر عمل کرتے تو ایک دوسرے کے خلاف کیس نہ بنتے‘انہوں نے کہا1990ء کی دہائی میں ہم کیس فائل کرتے تھے تو وہ اگلے دن لگ جاتے تھے‘اب وہ ساری چیزیں ختم ہو گئی ہیں‘اپنی مرضی کے جج لگانا چاہتے ہیں تو لگائیں مگر ان کو جج لگائیں جنہوں نے کام کیا ہو‘عدالتوں کا زیادہ وقت سیاسی کیسوں میں لگتا ہے‘بارہ13جج سیاسی کیسوں میں بیٹھ جاتے ہیں جس سے باقی کیسوں پر اثر پڑتا ہے‘انہوں نے کہا ہم جمہوریت کی جانب جا رہے ہیں