اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں میاں بیوی کی لڑائی اور بچوں کی حوالگی کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں والدین اپنے وکلا کے ساتھ پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت نے بچوں کی بھلائی اور والدین کے رویے پر اہم ریمارکس دیے۔
عدالت کے اہم ریمارکس:
بچوں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا
جسٹس کیانی نے واضح کیا کہ میاں بیوی کے جھگڑے بچوں پر اثر نہیں ڈالنے چاہئیں اور بچوں کو ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے حق میں مکمل نہیں کیا جا سکتا۔
گھر بیوی کے نام کرانا کوئی بڑی بات نہیں
عدالت نے کہا کہ اگر خاوند نے گھر بیوی کے نام کرانا ہو تو یہ کوئی مسئلہ نہیں، یہ معمول کی بات ہے۔
جج اور وکیل والدین کے دشمن نہیں ہیں
عدالت نے میاں بیوی کو سمجھایا کہ جج اور وکیل بچے یا والدین کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ وہ رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اصل حل والدین خود کریں۔
معافی اور صلح پر زور
جسٹس کیانی نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بیٹھ کر بات کریں، ایک دوسرے کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں، اور غصہ آنے پر خاموش رہیں۔
بچوں کی تربیت پر توجہ
عدالت نے کہا کہ اب بچوں کی تربیت کا وقت ہے، اگر والدین نے ابھی صلح نہیں کی تو بڑے ہونے پر بچے والدین سے نفرت کر سکتے ہیں۔
والدین کا موقف:
خاوند نے کہا کہ نہ وہ علیحدگی چاہتے ہیں اور نہ دوسری شادی۔
بیوی نے گھر اپنے نام کرانے کا مطالبہ کیا۔
دونوں والدین نے عدالت کے سوال پر معافی مانگنے کے لیے رضامندی ظاہر کی۔
عدالت کے اقدامات:
دونوں والدین کو کمرہ عدالت میں ساتھ بیٹھنے کی ہدایت دی گئی۔
آئندہ سماعت پر چاروں بچوں کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔
کیس کی سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔