بچوں کے تحفظ پر خطرے کی گھنٹی، 6 ماہ میں زیادتی اور اغوا کے 1,914 واقعات رپورٹ

بچوں کے تحفظ پر خطرے کی گھنٹی، 6 ماہ میں زیادتی اور اغوا کے 1,914 واقعات رپورٹ

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل نے جنوری سے جون 2026 تک بچوں کے خلاف جرائم سے متعلق اپنی ششماہی رپورٹ جاری کر دی، جس میں ملک بھر سے سامنے آنے والے تشویشناک اعداد و شمار شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چھ ماہ کے دوران پاکستان بھر میں بچوں کے خلاف جرائم کے 1,914 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان میں 49 ایسے نومولود بھی شامل تھے جنہیں مبینہ طور پر سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران 1,015 بچوں کے جنسی استحصال، 558 اغوا، 101 گمشدگی، 35 کم عمری کی شادی اور 98 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں جنسی استحصال کے بعد فحش مواد (پورنوگرافی) سے متعلق جرائم بھی شامل تھے۔اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ بچوں میں 58 فیصد لڑکیاں جبکہ 42 فیصد لڑکے تھے۔ عمر کے لحاظ سے 11 سے 15 سال کے 598 بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ 16 سے 18 سال کے 356، 6 سے 10 سال کے 329 اور 5 سال تک کے 95 بچے متاثرین میں شامل تھے۔ 487 کیسز میں متاثرہ بچوں کی عمر کا ذکر نہیں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق 43 فیصد کیسز میں ملزمان متاثرہ بچوں کے واقف کار تھے، جبکہ 34 فیصد میں ملزمان اجنبی تھے۔ 13 فیصد کیسز میں ملزم کی شناخت یا حیثیت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

جرائم کے مقامات کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 45 فیصد واقعات متاثرہ بچوں کے اپنے گھروں میں، 18 فیصد ملزمان کے گھروں میں اور 3 فیصد کھلے میدانوں میں پیش آئے، جبکہ 21 فیصد کیسز میں وقوعہ کی جگہ کی تفصیلات موجود نہیں تھیں۔رپورٹ کے مطابق 57 فیصد کیسز شہری جبکہ 43 فیصد دیہی علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔صوبائی سطح پر پنجاب سے 80 فیصد، سندھ سے 15 فیصد جبکہ خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے مجموعی طور پر 5 فیصد کیسز رپورٹ کیے گئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مجموعی کیسز میں سے 89 فیصد پولیس میں درج کیے گئے، 11 فیصد کیسز میں مقدمے کے اندراج کی صورتحال واضح نہیں تھی، 7 کیسز میں ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، جبکہ ایک کیس میں پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔