ایف بی آرمیں اصلاحات سے جی ڈی پی میں ٹیکس کلیکشن کے تناسب میں اضافہ حکومت کے لئے قابل اطمینان ہے‘وفاقی حکومت اور میں بذات خود اصلاحاتی اقدامات کی مکمل حمایت اور تحفظ کروں گا
کسٹم کلیئرنس میں انقلابی اصلاحات کے ملک بھر میں یکساں اور موثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے‘ اصلاحاتی ایجنڈا میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے اداراجاتی کاروائیوں میں درکار وقت کو کم سے کم کیا جائے:اجلاس میں گفتگو
اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے ایف بی آرمیں اصلاحات سے جی ڈی پی میں ٹیکس کلیکشن کے تناسب میں اضافہ حکومت کے لیے قابل اطمینان ہے‘وفاقی حکومت اور میں بذات خود اصلاحاتی اقدامات کی مکمل حمایت اور تحفظ کروں گا۔ اصلاحات کی راہ میں سرخ فیتے اور اداراجاتی رکاوٹیں ختم کر کے اصلاحات کے مستقل نفاذ کو یقینی بنائیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے نئی مالی سال کے پہلے ماہ جولائی میں اپنا ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کیا ہے اور آئندہ مہینوں میں بھی مکمل ہدف حاصل کرنے کی توقع ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں مجوزہ اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا۔وزیراعظم نے اجلاس سے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا وفاقی حکومت کی طرف سے فیڈرل بورڈ اف ریونیو (ایف بی آ) میں کی گئی اصلاحات کے نتیجے میں جی ڈی پی میں ٹیکس کلیکشن کے تناسب میں اضافہ حکومت کے لیے قابل اطمینان ہے۔ وفاقی حکومت اور میں بذات خود حکام کی طرف سے لیے گئے اصلاحاتی اقدامات کی مکمل حمایت اور تحفظ کروں گا۔ اصلاحات کی راہ میں سرخ فیتے اور اداراجاتی رکاوٹیں ختم کر کے اصلاحات کے مستقل نفاذ کو یقینی بنائیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کسٹم کلیئرنس میں انقلابی اصلاحات کی ملک بھر میں یکساں اور موثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ کسٹم کلیرنس کے اصلاحاتی ایجنڈا میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے اداراجاتی کاروائیوں میں درکار وقت کو کم سے کم کیا جائے۔ ایف بی آر اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس کلیکشن کے ثمرات کو ائندہ مالی سال میں برقرار رکھنے کے لیے وفاق اور صوبے باہمی ہم آہنگی اور مربوط حکمت عملی سے کام کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں پہلے سے عائد کردہ ٹیکسز کا موثر اور عمدہ نفاذ ٹیکس کلیکشن کو مزید بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم نے خصوصی ہدایت کی کہ جی ڈی پی میں ٹیکس کلیکشن کے تناسب میں اضافے کیلئے ایف بی آر، متعلقہ وفاقی ادارے اور صوبوں کی مشاورت سے سٹریٹجی بنائیں۔ ایف بی ار کے آئندہ مالی سال کے ٹیکس کلیکشن اور دیگر اصلاحاتی اہداف کے منظور شدہ مقررہ وقت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔