لاہور(نیٹ نیوز)مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ متعدد پینسلوں کے پیچھے ایک دھاتی چھلے میں ربڑ کیوں موجود ہوتا ہے؟تو اس کا جواب بہت سادہ ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگ غلطیاں کرتے ہیں اور بچے تو کچھ زیادہ ہی غلطیاں کرتے ہیں۔جی ہاں واقعی پینسل میں ربڑ کی موجودگی کا مقصد لکھائی کے دوران کی جانے والی غلطیوں کو مٹا کر دوبارہ لکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے اور یہی اس کی موجودگی کی اصل وجہ ہے۔جب پینسل پر ربڑ نہیں ہوتے تھے اس وقت ایک غلطی کافی بھاری ثابت ہوتی تھی۔ایسا کہا جاتا ہے کہ 1850 کی دہائی میں ہے مین لپمین نامی شخص نے پینسل میں ربڑ کا اضافہ کیا تھا یا یوں کہہ لیں کہ اسے کمرشل بنیادوں پر متعارف کرایا۔انہوں نے اپنے اس انقلابی خیال کو پیٹنٹ کرایا اور اس کے حقوق ایک اور شخص oseph Reckendorfer کو ایک لاکھ ڈالرز میں فروخت کیے۔اس وقت انہیں خیال بھی نہیں تھا کہ یہ آئیڈیا اور ڈیزائن مستقبل میں لکھنے کے عمل پر نمایاں اثرات مرتب کرے گا۔