بلاول بھٹو کا ٹویٹ تشویش ناک ہے، پاکستان پیپلز پارٹی بھی اس ٹوپی ڈرامے میں شریک ہے، اس کا فیصلہ پہلے ہو چکا ہے، یہ صرف لوگوں کو دکھانے کیلئے کیا جا رہا ہے:اسدقیصر
ایک ایسی عدالت بنانے جا رہے ہیں جس کی مدت 70 سال ہو گی‘ یہ بتانا چاہ رہے ہیں جو حکومت کو خوش رکھے گا اس کے لئے آگے موقع موجود ہے:مصطفی نواز کھوکھر
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اعلان کیا ہے 17 ویں آئینی ترمیم منظور نہیں ہونے دیں گے کیونکہ اس کے بدترین نقصانات ہوں گے اور ملک کی بنیادیں ہل جائیں گی۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے صدر محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ملک کی سیاسی صورت حال پر تباہ خیال کیا گیا۔ بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا جو 27 آئینی ترمیم کا پنڈورا باکس کھولا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری کا بھی جو ٹویٹ آیا ہے تشویش ناک ہے، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بھی اس ٹوپی ڈرامے میں شریک ہے، اس کا فیصلہ پہلے ہو چکا ہے، یہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔اسد قیصر نے کہا کہ ایک پی پی پی تھی ذوالفقار علی بھٹو والی جس نے آئین کی بنیاد رکھی، دوسری بینظیر بھٹو والی جس نے جمہوریت کے لیے جان دے دی، آج بھی پی پی پی جمہوریت کو دفن کرنے کے لیے جان لگا رہی ہے۔اس موقع پر سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ اس بات میں تو کسی پاکستانی کو شک و شبہ نہیں ہے کہ کچھ عرصے سے اس ملک میں جبر کا نظام نافذ ہے، تمام چیزیں جو پاکستانی شہریوں کے لیے آئین نے فراہم کی تھی وہ سبوتاژ کر دی گئی ہیں۔، ایک ایسی عدالت بنانے جا رہے ہیں جس کی مدت 70 سال ہو گی۔ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ جو حکومت کو خوش رکھے گا اس کے لیے آگے موقع موجود ہے، یہ عدلیہ کے ساتھ کیا کھلواڑ کر رہے ہیں، ججوں کی ٹرانسفر پوسٹنگ باقی بیوروکریسی کی طرح ہو گی، جن کے فیصلے پسند نہیں آتے انہیں اٹھا کر دوسری جگہ پھینک دیں گے، اس طرح کون سا جج عوام کو انصاف دینے کے لیے کھڑا ہو گا۔سابق گورنر سندھ زبیر عمر نے کہا کہ میاں نواز شریف سے میں گزارش کروں گا کہ 26 آئینی ترمیم اور 27 آئینی ترمیم پر صرف ایک بیان دے دیں، مجھے امید ہے کہ وہ اس کا بھرپور اختلاف کریں گے اوروہ اپنے بھائی کو یہ کرنے سے روکیں گے۔