واسا:سالانہ ترقیاتی پروگرام بند ،نئے منصوبوں کا اعلان

 واسا کے اعدادوشمار سے ابہام پیدا،ترقیاتی ترجیحات پر بھی سوالات 
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور میں ترقیاتی منصوبوں کے دعوے مگر زمینی حقیقت سوال بن گئی۔ واسا نے پنجاب حکومت کو اعدادوشمار کے بھنور میں الجھا دیا۔سالانہ ترقیاتی پروگرام پس پشت، نئے منصوبوں کے اعلانات جاری جبکہ اربوں کے منصوبے فائلوں میں بند ہیں جن کو آئندہ مالی سال شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ذرائع کے مطابق لاہور میں سیوریج اور واٹر سپلائی مسائل حل کیلئے بنائے گئے منصوبے تاخیر اور انتظامی بے ترتیبی کا شکار ہو گئے۔ واسا کی جانب سے پیش اعدادوشمار نے نا صرف حکومتی سطح پر ابہام پیدا کیا بلکہ ترقیاتی ترجیحات پر بھی سوالات کھڑے کر دیئے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت شروع ہونیوالے منصوبے تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکے حالانکہ قواعد کے مطابق 3 سال کے اندر ان پر کام کا آغاز لازمی ہوتا ہے۔ اسکے برعکس واسا نے جاری سکیموں کو نظر انداز کرتے ہوئے نئے منصوبوں کے اعلانات کر دیئے جس سے پالیسی اور عملدرآمد کے درمیان واضح خلا سامنے آیا ہے۔شہر کے اہم انفراسٹرکچر منصوبے لاریکس کالونی سے گلشن راوی تک ٹنل بورنگ، سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور الجزری اکیڈمی فیز ٹو ابھی تک آغاز کے منتظر ہیں۔ 105 ٹیوب ویلز پر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب اور حاجی کیمپ سٹروم واٹر ڈرین کا منصوبہ بھی مکمل نہ ہو سکا۔ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے بڑے منصوبے بھی تاخیر کا شکار ہیں۔ موہلنوال اور فیروز پور روڈ کے پراجیکٹس ہوں یا محمود بوٹی، شادباغ، شاہدرہ اور بابو صابو کے ٹریٹمنٹ پلانٹس،تمام سکیمیں فائلوں تک محدود ہیں۔ گرین ٹاو?ن میں الکریم چوک سے صدیق چوک تک پرانے سیوریج سسٹم کی تبدیلی کے منصوبے پر بھی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہونے کے باوجود پیشرفت نہ ہوسکی۔ واسا انتظامیہ کا مو?قف ہے کہ ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی منظوری حاصل ہو چکی ہے جبکہ لاریکس کالونی منصوبے پر آئندہ مالی سال کام شروع کیا جائے گا۔ بارہ بوسیدہ سیوریج لائنیں تبدیل کی جا چکی ہیں اور مزید کی تبدیلی آئندہ سال کے ترقیاتی ایجنڈے میں شامل ہے۔