لندن: برطانوی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ غزہ کے شدید بیمار اور زخمی بچوں کو قومی محکمۂ صحت (NHS) کے تحت برطانیہ منتقل کر کے ان کا علاج کیا جائے گا۔
اس منصوبے کے تحت بچوں کے علاج کا مکمل خرچ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے پورا کیا جائے گا۔حکومتی ترجمان کے مطابق، غزہ سے ایسے بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر منتقل کیا جائے گا جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے اور جہاں ضروری ہوا، انہیں برطانیہ میں ماہر ڈاکٹروں سے علاج فراہم کیا جائے گا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔اس سے قبل نجی فلاحی تنظیم پروجیکٹ پیور ہوپ کے ذریعے 3 فلسطینی بچوں کو نجی طور پر برطانیہ منتقل کیا جا چکا ہے۔ اسی تنظیم کے تحت 15 سالہ مجد الشغنوبی برطانیہ آنے والا پہلا فلسطینی بچہ تھا، جو اسرائیلی ٹینک کے گولے سے شدید زخمی ہوا تھا۔ لندن کے گریٹ اورمنڈ اسٹریٹ اسپتال میں اس کا علاج جاری ہے۔یونیسف کے مطابق اکتوبر 2023ء سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے غزہ میں 50 ہزار سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ اقدام سیاسی دباؤ کے بعد کیا گیا ہے۔ 100 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے حکومت سے 30 شدید بیمار بچوں کو برطانیہ لانے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ جولائی میں خارجہ امور کی پارلیمانی کمیٹی نے حکومت پر طبی انخلاء میں ناکامی کا الزام لگایا تھا۔سرکاری منصوبے کے تحت غزہ سے 300 بچوں کو والدین یا سرپرست کے ساتھ برطانیہ لایا جا سکے گا۔ اس دوران برطانیہ اردن کے ساتھ مل کر غزہ میں ہوائی امداد بھی پہنچا رہا ہے۔پروجیکٹ پیور ہوپ نے حکومتی اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے تجربے سے حکومت کی مدد کریں گے تاکہ ہر زخمی بچے کو بہترین علاج اور صحت یابی کا موقع فراہم کیا جا سکے۔واضح رہے کہ برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ حکومت فلسطینی بچوں کے علاج کے لیے اقدامات کو تیز کر رہی ہے، جبکہ انہوں نے اقوام متحدہ سے قبل فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی بھی تجویز دی ہے، بشرطیکہ اسرائیل جنگ بندی کرے اور دو قومی حل کی راہ ہموار ہو۔
Ask ChatGPT