ویب ڈیسک: پاکستان کے پارلیمانی نظام میں سب سے اعلیٰ ترین عہدہ ہونے کے باوجود وزیراعظم کی تنخواہ ماتحت وزرا، ارکانِ پارلیمنٹ اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے مقابلے میں نہایت کم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
سینیٹ میں کابینہ ڈویژن کی طرف سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ 13 لاکھ روپے جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی حالیہ اضافے کے بعد تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار روپے ہے۔اس کے برعکس وزیراعظم پاکستان کی بنیادی تنخواہ صرف 1 لاکھ 7 ہزار 280 روپے ہے، جبکہ دیگر الاؤنسز شامل کر کے یہ تقریباً 2 لاکھ روپے بنتی ہے۔ وزیراعظم کو تاحیات سیکیورٹی، ٹیکس میں چھوٹ، پینشن یا مالی فوائد کی سہولت بھی حاصل نہیں۔ذرائع کے مطابق موجودہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے عہدے کی تنخواہ بھی وصول نہیں کر رہے۔