بیجنگ میں پیوٹن کا انتباہ: جنگ مذاکرات سے ختم ہوگی یا ہتھیاروں سے

بیجنگ میں پیوٹن کا انتباہ: جنگ مذاکرات سے ختم ہوگی یا ہتھیاروں سے

ویب ڈیسک: روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق سفارتی اور عسکری بیانات نے ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کرلی ہے۔

 روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بیجنگ میں دورۂ چین کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے یوکرین کو دو ٹوک انتباہ دیا کہ یا تو مذاکرات کے ذریعے دانشمندی سے جنگ ختم کی جائے یا پھر روس طاقت کے بل پر اسے انجام تک پہنچائے گا۔پیوٹن نے کہا کہ اگر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی ماسکو آئیں اور نتیجہ خیز بات چیت کریں تو امن قائم ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر دانشمندی کا مظاہرہ کیا گیا تو جنگ مذاکرات سے ختم ہوگی، ورنہ ہتھیار فیصلہ کریں گے۔"امریکی پالیسی پر بات کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ امن کے لیے پہلے سے زیادہ سنجیدہ دکھائی دیتی ہے، جب کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں مسئلے کے حل کی خلوص نیت زیادہ نظر آئی تھی۔ پیوٹن نے کہا کہ "روشنی کی ایک کرن نظر آ رہی ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔"

روسی صدر نے مزید کہا کہ یوکرین کو نیٹو میں شمولیت کے خیال کو ہمیشہ کے لیے ترک کرنا ہوگا۔ دوسری جانب یوکرینی وزیر خارجہ نے زیلنسکی کے ماسکو جانے کی تجویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ "سات ممالک مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہیں اور صدر زیلنسکی بھی فوری ملاقات کے لیے تیار ہیں۔"علاوہ ازیں، غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس کی سرکاری ایٹمی کارپوریشن روس آٹم (Rosatom) کے سربراہ نے بیجنگ میں مذاکرات کے بعد اعلان کیا کہ ماسکو، چین کو دنیا کا سب سے بڑا جوہری توانائی پیدا کرنے والا ملک بنانے میں مدد کرے گا، تاکہ امریکا کو پیچھے چھوڑا جا سکے۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک اتحاد بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔