امریکہ کا پیش کردہ یہ معاہدہ فلسطین کو محدود کرنے اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو تقویت دینے کے مترادف ہے، ٹرمپ کی پالیسیوں اور بیانات میں بھی تضاد ہے
پاک سعودی دفاعی معاہدے کا دل و جان سے خیر مقدم کرتے ہیں ، ٹرمپ امن معاہدے میں تضادات ہیں‘ اسلامی ممالک نے بھی تحفظات ظاہر کئے ہیں :میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد (آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے غزہ امن معاہدے کے 20 نکات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا ہے وہ اس معاہدے کو رد کرے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ امریکہ کا پیش کردہ یہ معاہدہ فلسطین کو محدود کرنے اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو تقویت دینے کے مترادف ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاک سعودی دفاعی معاہدے کا جے یو آئی دل و جان سے خیر مقدم کرتی ہے۔ یہ معاہدہ اسلامی دنیا اور خطے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، اور اس پر سعودی عرب کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کی آرزو ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب اسلامی دنیا کی قیادت کریں، اور مستقبل میں دیگر اسلامی ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ٹرمپ امن معاہدے پر حکومت پاکستان کی پالیسی سے وہ متفق نہیں ہیں کیونکہ ٹرمپ کی اپنی پالیسیوں اور بیانات میں تضاد ہے۔ ان کے بقول، امریکہ کی جانب سے پہلے اور بعد میں پیش کیے گئے نکات میں واضح فرق ہے جبکہ بعض اسلامی ممالک نے بھی ملاقاتوں کے دوران اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ اس کی شرائط کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے نئے معاہدے میں نہ تو اسرائیل کو روکا گیا ہے اور نہ ہی فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے، بلکہ مزاحمتی تحریکوں کو دبانے اور اسرائیل کو کھلا ہاتھ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایسے معاہدے کسی طور قابلِ قبول نہیں ہیں۔