حاجی محمد لطیف کھوکھر
دنیا کی تاریخ میں بعض واقعات ایسے رونما ہوئے ہیں جو کائنات کے نقشے کو بدل دیتے ہیں، کچھ ایسے ہوتے ہیں جو ایک قوم کے مقدر کو روشن کرتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایک نئی تہذیب اور ایک نئے فکر و نظریے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ لیکن تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے عظیم واقعہ وہ ہے جب اللہ رب العزت نے اپنے آخری رسول، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس دنیا میں بھیجا۔ آپ ﷺ کی ولادت ایک ایسا واقعہ ہے جس نے نہ صرف جزیرہ نما عرب بلکہ پوری انسانیت کی تقدیر کو بدل دیا۔ اس دن کی عظمت اور شان کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں، کیونکہ یہ دن دراصل رحمت، نور، برکت اور ہدایت کے نزول کا دن ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ دن خوشی اور سعادت کا دن ہے کیونکہ اس دن ہمارے نبی، ہمارے محسن، ہمارے ہادی اور ہمارے مربی دنیا میں تشریف لائے۔نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت عام الفیل میں مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا ہر طرف سے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ عرب میں بت پرستی کا بازار گرم تھا، انسان، انسان کا خون بہانے سے دریغ نہیں کرتا تھا، عورت کو ذلت کی علامت سمجھا جاتا اور زندہ دفن کر دینا باعث فخر گردانا جاتا تھا، یتیم اور مسکین کو معاشرے میں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، سود اور شراب عام تھے، جہالت اور گمراہی نے دلوں کو سیاہ کر دیا تھا۔ روم اور فارس جیسی بڑی سلطنتیں بھی بظاہر ترقی یافتہ تھیں لیکن وہ بھی اخلاقی پستی اور ظلم و جبر میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ ایسے عالم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو بھیج کر انسانیت پر سب سے بڑا احسان کیا۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان فرمایا کہ ’’ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی آمد صرف عرب یا مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری کائنات کے لیے رحمت ہے۔جب رسول اکرم ﷺ کی ولادت ہوئی تو کائنات نے اس عظیم واقعے کی خوشی میں غیر معمولی مظاہر دیکھے۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ فارس کے آتش کدے جو ہزار برس سے جل رہے تھے، بجھ گئے، فارس کے محل کے کنگرے زمین بوس ہو گئے، بحیرہ ساوہ خشک ہو گیا، اور وہ جھوٹے خدا جنہیں لوگ پوجتے تھے، ان کی بے بسی کھل کر سامنے آ گئی۔ یہ سب نشانیاں اس بات کا اعلان کر رہی تھیں کہ دنیا کے اندھیروں کو مٹانے والی اور انسانیت کو روشنی دینے والی ہستی دنیا میں آ چکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان جب ربیع الاول کا مہینہ دیکھتے ہیں تو ان کے دل خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں۔ یہ خوشی محض کسی عام واقعے کی خوشی نہیں بلکہ یہ ان کے ایمان کی خوشی ہے، یہ ان کی روح کی خوشی ہے، یہ ان کے دل و دماغ کی روشنی ہے۔ کیونکہ اگر رسول اللہ ﷺ کی آمد نہ ہوتی تو مسلمان نہ ہوتے، قرآن نہ ہوتا، ہدایت نہ ہوتی اور دنیا ہمیشہ کے لیے جہالت میں بھٹکتی رہتی۔ اس لیے یہ دن صرف ایک دن نہیں بلکہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت کے نزول کا دن ہے۔رسول اکرم ﷺ کی ولادت مسلمانوں کے لیے خوشی اس لیے بھی ہے کہ آپ ﷺ نے انسان کو انسانیت سکھائی۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ اصل عزت دولت یا نسب میں نہیں بلکہ تقویٰ میں ہے۔ آپ ﷺ نے سچائی، دیانت داری، رحم دلی اور عدل و انصاف کے ایسے اصول دیے جو ہمیشہ کے لیے انسانیت کے لیے رہنمائی ہیں۔ آپ ﷺ نے غلاموں کو آزادی دی، عورت کو عزت دی، یتیموں کو سہارا دیا، مظلوم کو حق دلایا اور طاقتور کو انصاف کے دائرے میں لایا۔ آپ ﷺ نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں امن، محبت، عدل اور برابری کی بنیاد رکھی گئی۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جن کی وجہ سے مسلمان اس دن کو خوشی کا دن سمجھتے ہیں کیونکہ اگر یہ تعلیمات نہ ملتیں تو انسانیت ہمیشہ ظلم اور جبر کے اندھیروں میں ڈوبی رہتی۔میلاد النبی ﷺ کا دن مسلمانوں کے لیے ایک عملی پیغام ہے۔ اس دن کی خوشی منانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو سیرتِ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالیں۔ یہ خوشی محض چراغاں کرنے یا جلوس نکالنے سے پوری نہیں ہو سکتی بلکہ اس کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زبان کو درود و سلام سے تر رکھیں، اپنے دل کو محبت رسول ﷺ سے آباد کریں اور اپنے اعمال کو سنت کے مطابق بنائیں۔ اگر ہم جھوٹ، فریب، ظلم اور زیادتی کو چھوڑ کر سچائی، انصاف اور محبت کو اپنا لیں تو یہی حقیقی میلاد ہے۔جب مسلمان رسول اللہ ﷺ کی ولادت کا ذکر سنتے ہیں تو ان کے دلوں میں عشق و محبت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اس لیے میلاد منانے کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں اور اپنی عملی زندگی میں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو زندہ کریں۔آج کی دنیا میں جب انسانیت ایک بار پھر ظلم، جبر، نفرت اور دہشت گردی کا شکار ہے، جب نوجوان نسل گمراہی کی راہوں پر جا رہی ہے، جب معاشرتی برائیاں پھیل رہی ہیں اور اخلاقی اقدار کمزور ہو رہی ہیں، ایسے وقت میں سیرتِ رسول ﷺ کی طرف رجوع کرنا سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنی سیاست کو، اپنی معیشت کو، اپنے تعلیمی نظام کو اور اپنی معاشرت کو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیں تو دنیا کے مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔ آج ہمیںمیلاد النبی ﷺ کے موقع پر صرف خوشی منانے کے ساتھ ساتھ یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو حضور ﷺ کی سیرت کے سانچے میں ڈھالیں گے۔رسول اکرم ﷺ کی آمد دراصل انسانیت کے لیے سب سے بڑی خوشخبری ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے محبوب نبی ﷺ کی صورت میں سب سے بڑی نعمت عطا کی ہے۔ اس دن کی خوشی اس وقت مکمل ہوگی جب ہم اپنی زندگیوں میں آپ ﷺ کی سنت کو زندہ کریں گے۔