اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین اور پیٹرن انچیف عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر دائر توہین عدالت کیس کو آج کی کاز لسٹ سے خارج کر دیا۔
عدالت کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق یہ کیس غلطی سے کاز لسٹ میں شامل ہو گیا تھا، جس کی تصدیق ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر بھی کر دی گئی۔ رجسٹرار آفس نے آج کے لیے کاز لسٹ جاری کی تھی لیکن بعد ازاں اسے واپس لے لیا گیا۔
پس منظر:
یہ کیس پی ٹی آئی کے رہنما اور عمران خان کے فوکل پرسن نیاز اللہ نیازی کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 24 مارچ کے عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔درخواست پر قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سماعت کرنا تھی، جس میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس محمد آصف بھی شامل تھے۔
عدالتی مؤقف:
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ترجمان اور رجسٹرار آفس کے مطابق:"یہ کیس غلطی سے مقرر ہوا تھا، اور اس لیے کاز لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔"
موجودہ صورتحال:
عدالت کی جانب سے کیس کی سماعت آج ملتوی کر دی گئی ہے۔نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا یا کیس کا دوبارہ اندراج متعلقہ درخواست گزار کی جانب سے کیا جا سکتا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں توہین عدالت کی درخواست کا قانونی جواز موجود ہے، مگر تکنیکی بنیادوں پر یہ آج نہیں سنا جا سکا۔یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں پر پہلے ہی سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث جاری ہے۔