ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد خطے کی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور امریکا کو ایران کے حوالے سے نئے حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ازبکستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر سے ملاقات کے دوران محمد باقر قالیباف نے کہا کہ حالیہ جنگ کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال ماضی سے مختلف ہے اور اس نے امریکا کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے نئے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول مستقبل میں ایسی فضا قائم ہونے کی امید ہے جو ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی یا ان کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران اور عمان کے مشترکہ انتظام اور خطے میں امریکی سرگرمیوں میں کمی سے علاقائی ٹرانزٹ اور تجارتی تعاون کے فروغ کے امکانات مزید روشن ہوئے ہیں۔ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے تناظر میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کو وسعت دینا خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہوگا۔