چین: 68 سالہ بینک چیئرمین نے بیٹے کی منگیتر سے شادی کر لی، رشوت کے الزامات میں سزا

چین: 68 سالہ بینک چیئرمین نے بیٹے کی منگیتر سے شادی کر لی، رشوت کے الزامات میں سزا

چین میں ایک غیر معمولی واقعہ منظر عام پر آیا ہے جہاں 68 سالہ سابق بینک چیئرمین لیو لیانگ نے اپنے بیٹے کی منگیتر سے شادی کر لی۔

یہ واقعہ چینی اور بین الاقوامی میڈیا میں سرخیوں کا حصہ بنا، جس میں لیو کی ذاتی زندگی اور بدعنوانی کے مقدمات نمایاں ہیں۔

واقعے کی تفصیلات:
شخصیت:
لیو لیانگ، بینک آف چائنا کے سابق چیئرمین، جنہوں نے پہلے بھی تین شادیاں کیں۔
چوتھی شادی:
یہ شادی ان کے بیٹے کی منگیتر سے ہوئی، جسے لیو نے بیٹے کے خلاف سازش کر کے اپنے لیے منتخب کیا۔
سازش:لیو نے جھوٹے الزامات لگا کر اپنے بیٹے کو منگیتر کے خلاف بھڑکایا۔بیٹے کو دوسری لڑکی سے رشتہ جوڑنے پر مجبور کیا۔منگیتر کو قیمتی تحائف دے کر اپنی محبت کے جال میں پھنسایا۔
بیٹے کا ردعمل:
لیو کے بیٹے کو چھ ماہ بعد پتہ چلا کہ اس کی منگیتر اب اس کی تیسری سوتیلی ماں بن چکی ہے۔اس واقعے نے نوجوان کو شدید ڈپریشن میں مبتلا کر دیا۔
لیو لیانگ کے خلاف قانونی کارروائی:
لیو پر 17 ملین ڈالر رشوت لینے اور 450 ملین ڈالر کے غیر قانونی قرضے جاری کرنے کے الزامات ثابت ہوئے۔نومبر 2023 میں لیو کو چینی عدالت نے 2 سال کی مہلت کے ساتھ پھانسی کی سزا سنائی۔ان کی بدعنوانی اور ذاتی زندگی دونوں ہی تنازعے کی زد میں رہے۔
عوامی ردعمل:
یہ واقعہ چین میں اخلاقیات اور بدعنوانی کے موضوع پر ایک بحث کا سبب بنا۔ لیو لیانگ کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس میں ان کے ذاتی رویے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔