دمشق (آئی این پی )انسانی حقوق کے رہنمائوں نے شام کی نئی حکومت کی جانب سے نصاب میں تبدیلیوں کو شدت پسندانہ اور مذہبی اقلیتوں کے لیے ممکنہ طور پر نقصان دہ قرار دیے جانے کے بعد ان تبدیلیوں کا محتاط دفاع کیا ہے۔ غیرملکی خبر رساں ا دنارے کی رپورٹ کے مطابق ان ترامیم کا اعلان عبوری قیادت کی وزارت تعلیم کے فیس بک پیج پر کیا گیا ۔نصاب میں کی جانے والی تبدیلیوں میں خواتین اور محبت سے متعلق شاعری کو ختم کرنا شامل ہے۔ قومی ترانے کو بھی نصابی کتب سے ہٹا دیا گیا ہے، جسے وزارت نے (الاسد) حکومت کا ترانہ قرار دیا ہے۔اسی طرح قوم پرستانہ جملہ اپنے وطن کے دفاع میں جان قربان کرنا کو اللہ کی خاطر جان قربان کرنا سے بدل دیا گیا ہے۔