معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قتل

معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قتل

افریقی ملک لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے قتل کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

 عرب میڈیا کے مطابق چار نامعلوم مسلح افراد نے سیف الاسلام قذافی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔سیف الاسلام قذافی کے سیاسی مشیر عبداللہ عثمان نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک منظم حملہ تھا، تاہم ابھی تک حملے کے محرکات اور ذمہ داروں کے بارے میں کوئی باضابطہ تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ لیبیا کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔واضح رہے کہ 2011 میں لیبیا میں عوامی بغاوت کے دوران معمر قذافی کو باغیوں نے ہلاک کر دیا تھا۔ اس موقع پر سیف الاسلام بھی اپنے والد کے ہمراہ موجود تھے اور زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے تھے۔ انہیں بعد ازاں مختلف الزامات کے تحت قید میں رکھا گیا، جہاں انہوں نے تقریباً چھ سال قید کاٹی۔سیف الاسلام قذافی کو 2017 میں رہا کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ ایک عرصے تک منظرِ عام سے دور رہے، تاہم وقتاً فوقتاً لیبیا کی سیاست میں ان کے کردار سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آتی رہیں۔

بعد ازاں 2021 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقع پر سیف الاسلام قذافی نے بھی صدارتی امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی جمع کروائے، مگر لیبیا کے الیکشن کمیشن نے انہیں نااہل قرار دے دیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے مجموعی طور پر 25 امیدواروں کے کاغذات مسترد کیے گئے تھے، جن میں سیف الاسلام قذافی کا نام بھی شامل تھا۔سیف الاسلام قذافی کی ہلاکت کو لیبیا کی پہلے سے غیر مستحکم سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم اور حساس واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ قذافی دور کی علامت سمجھے جاتے تھے اور بعض حلقوں میں اب بھی ان کے حامی موجود تھے۔