کراچی میں کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کی جانب سے ایک سنجیدہ بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ جہاں بل جمع نہیں ہوں گے، وہاں 18 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جا سکتی ہے۔
یہ بیان سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کے دوران دیا گیا۔ اجلاس کی صدارت فیاض بٹ نے کی، جس میں کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کے چیف ایگزیکٹوز سمیت قائد حزب اختلاف علی خورشیدی اور کمیٹی کے دیگر ارکان بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران، کمیٹی کے رکن عامر صدیقی نے کراچی میں 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہاں لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیپرا (قومی توانائی ریگولیٹری اتھارٹی) قانون کے نفاذ میں ناکام ہو رہا ہے۔
مونس علوی نے جواب میں کہا کہ کراچی میں 30 سے 40 فیصد لوگ اپنے بلز ادا نہیں کرتے اور اس وجہ سے یہ مشکل پیش آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہزاروں افراد کی بجلی منقطع نہیں کر سکتے کیونکہ اس طرح کے اقدامات پر ان کے ملازمین کو حملوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جب بجلی کاٹنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ان کے عملے کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں، جس سے صورتحال پیچیدہ ہو جاتی ہے۔یہ معاملہ کراچی کی توانائی کی کمیابی اور اس کے اثرات کے حوالے سے جاری بحث کا ایک حصہ ہے۔ اس طرح کے مسائل کے حل کے لیے حکومتی اقدامات اور قانون کی مضبوطی کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔