ویب ڈیسک: سندھ کے وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں کے الیکٹرک کی زیادتیوں اور شدید لوڈشیڈنگ نے عوام کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے، جبکہ وفاق کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس عائد کرنا ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ ٹیکس فوری واپس لیا جائے۔
لوڈشیڈنگ اور بجلی بحران پر تنقید:
ناصر حسین شاہ نے کہا:"کراچی میں روز بروز غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بڑھ رہی ہے، لوگ کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو سے شدید پریشان ہیں۔"انہوں نے اعتراف کیا کہ:"کے الیکٹرک کی زیادتیوں سے عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔"
سولر ٹیکس کے خلاف مؤقف:
وفاقی حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر عائد ٹیکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا:"ہم اس ٹیکس کے سخت خلاف ہیں۔ وفاق سے درخواست ہے کہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے۔"انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام کو متبادل توانائی کی جانب راغب کرنا چاہیے، نہ کہ ان پر بوجھ بڑھانا۔
ترقیاتی منصوبے اور سندھ کی کارکردگی:
وزیر توانائی کے مطابق:سندھ حکومت نے 450 سے زائد ترقیاتی اسکیمیں مکمل کیں۔سندھ ملک بھر میں سب سے زیادہ اسکیمیں مکمل کرنے والا صوبہ ہے۔اگلے مالی سال میں کراچی کے لیے میگا ترقیاتی منصوبے مختص کیے گئے ہیں۔
سیاسی مؤقف اور دعوے:
ناصر حسین شاہ نے کہا:"کارکردگی کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک بڑھ رہا ہے۔ 2029 کے انتخابات میں عوام صرف پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں گے۔"انہوں نے دعویٰ کیا کہ:"بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق حکومت عوام کی خدمت جاری رکھے گی۔"
کراچی کے مسائل اور وفاقی بے حسی:
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کراچی پورے ملک کی معاشی شہ رگ ہے مگر اس پر توجہ نہیں دی جاتی۔ان کے مطابق:"2013 کے بعد وفاق نے کراچی کے لیے کوئی بڑی اسکیم نہیں رکھی۔"سابق ناظم مصطفیٰ کمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:"انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ سب سے زیادہ فنڈز آصف علی زرداری نے دیے تھے۔"