بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اپنی سزا کے خلاف اپیل کی تیاری کے لیے اپنے وکلاء سے فوری اور بلا تعطل ملاقات کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی ہے۔
درخواست بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں چیئرمین نیب، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 20 دسمبر 2025 کے بعد سے بانی پی ٹی آئی کو اپنے وکلاء سے بامقصد ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، یعنی تقریباً تین ماہ اور بارہ دن سے قانونی رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔مزید کہا گیا کہ سزا معطلی کی درخواست 19 مارچ 2025 سے زیر التوا ہے، جس پر اب تک 16 مختلف تاریخوں پر سماعت ہو چکی ہے، اور نیب کی جانب سے جان بوجھ کر کارروائی میں تاخیر اور رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے۔
درخواست میں اپیل کیا گیا کہ جیل حکام نے وکلاء سے ملاقات کی تمام کوششیں ناکام بنا دی ہیں، حالانکہ وکیل سے ملاقات کا حق جیل رولز 1978 اور آئین کے آرٹیکل 9، 10-A اور 14 کے تحت بنیادی حق ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ اپیل کی تیاری کے لیے دونوں اپیل کنندگان کو وکلاء سے فوری ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ قانونی کارروائی میں حصہ لے سکیں۔