لاہور: خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں ہوشربا اضافہ، 3 ماہ میں 27 قتل، 151 زیادتیاں
لاہور میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس نے شہریوں کو شدید خوف و اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ پولیس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے پہلے تین مہینوں (جنوری تا مارچ) میں خواتین کے خلاف سنگین جرائم کی شرح انتہائی تشویشناک ہے۔
خواتین کے خلاف جرائم کے اہم اعداد و شمار:
27 خواتین قتل
151 زیادتی کے واقعات
1,182 خواتین اغوا (صرف 988 بازیاب، 194 لاپتا)
زیادتی کے مرتکب 110 گرفتار، 41 فرار
بچوں کے خلاف جرائم:
138 بچے اغوا (14 اب تک لاپتا)
47 بچوں کے ساتھ زیادتی
44 ملزمان گرفتار، 3 فرار
پولیس کا دعویٰ اور عوام کا ردعمل:
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ "زیرو ٹالرنس" پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور زیادہ تر مقدمات کو حل کر لیا گیا ہے۔ تاہم، عوام اور سماجی کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ مجرموں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے اور خواتین و بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ماہرین سماجیات کے مطابق، لاہور جیسے بڑے شہر میں اتنے کم عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں جرائم کا رونما ہونا انتہائی پریشان کن ہے۔ انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کریں۔