قومی ٹیم کی جیت کا تناسب 24 فیصد سے 73 فیصد پر چلا گیا، چیئرمین پی سی بی

قومی ٹیم کی جیت کا تناسب 24 فیصد سے 73 فیصد پر چلا گیا، چیئرمین پی سی بی

لندن: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے قومی کرکٹ ٹیم پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ شکست پر تنقید کرنا سب کا حق ہے، تاہم کھلاڑیوں کی تذلیل برداشت نہیں کی جائے گی۔

لندن میں ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ نئے کوچز کی آمد کے بعد قومی ٹیم کی ون ڈے رینکنگ آٹھویں سے پانچویں جبکہ ٹی ٹوئنٹی رینکنگ نویں سے چھٹی پوزیشن پر آچکی ہے۔چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ پاکستان ٹیم گزشتہ چھ ون ڈے سیریز میں سے چار میں کامیابی حاصل کرچکی ہے، لیکن اس کے باوجود بعض ناقدین یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پاکستان کی کرکٹ ختم ہوگئی ہے۔محسن نقوی کے مطابق نئے کوچز کے آنے کے بعد قومی ٹیم کا مجموعی جیت کا تناسب 24 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم میں بہتری آئی ہے، تاہم ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ شکست پر تنقید کرنا ہر کسی کا حق ہے، لیکن ایسے افراد کی جانب سے کھلاڑیوں پر تنقید مناسب نہیں جنہوں نے خود کبھی کچھ حاصل نہیں کیا۔ کھلاڑیوں کی تذلیل کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ٹیسٹ کرکٹ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے محسن نقوی نے اعتراف کیا کہ اس شعبے میں کارکردگی بہت خراب ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ کارکردگی کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہیں جو فی الحال منظرِ عام پر نہیں لائی جاسکتیں۔چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ قومی ٹیم کو بہتر ہونے میں وقت لگے گا، یہ ممکن نہیں کہ صرف تین ماہ میں نویں یا چھٹی پوزیشن سے براہِ راست پہلی پوزیشن پر پہنچ جائے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقا کا نمیبیا سے ہارنا اور بھارت کا آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کو ہر میچ میں کامیابی کی ضمانت حاصل نہیں ہوتی۔محسن نقوی نے کہا کہ اگر کسی کو ان سے بغض ہے تو وہ ان پر تنقید کرے، لیکن قومی کرکٹ اور ٹیم کو بلاوجہ نشانہ نہ بنایا جائے۔