ہمارے لیے بے شک کھانا نہ لائیں لیکن جانوروں کے چارے کا بندوبست کریں
ڈیرے پر جانور کھڑے ہیں جس کے بھی ہیں وہ نشانی بتا کر لے جائیں:اعلانات
زندگی کی جمع پونجی یہ جانور ہیں،انکو چھوڑا نہیں جا سکتا ،رات کوکروڑ پتی، صبح کنگال
جانور کے سینگ پر فون نمبر یا گائوں کا نام باندھ دیں :سیلاب متاثرین کی کہانیاں
لاہور(خصوصی رپورٹ)پنجاب میں حالیہ سیلاب سے جہاں انسانوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں وہیں سینکڑوں جانور بھی پانی کی نذر ہو گئے جن میں گائے، بھینسیں، بھیڑ اور بکریاں بھی شامل ہیں۔ برطانوی خبررساں ادارے نے اس بارے رپورٹ میں کہا ہے کہ اب تک نارووال، سیالکوٹ اور وزیر آباد کو شدید نقصان پہنچا جہاں اتنی بڑی تعداد میں گائے اور بھینسیں مردہ حالت میں پڑی ہیں کہ ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ کھیتوں میں فصل نہیں بلکہ مویشی اْگتے ہیں۔ سمبٹریال میں سیلاب متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ جب وہ رات کو سوئے تھے تو کروڑ پتی تھے لیکن چند منٹوں میں ہی وہ کنگال ہو گئے۔مرجرہ کلاں کے رہائشی محمد ابرار نے کہا کہ 28 اگست کی رات کو تین بجے گاؤں کی مسجد میں اعلان ہوا کہ چناب میں پانی آ گیا ہے لہٰذا خود کو اور اپنے جانوروں کو بچا لیں، بڑی مشکل سے ایک پٹرول پمپ کی چھت پر پناہ لے کر جان بچائی، ڈیرے پر 50 گائے، بھینسیں تھیں، سولہ مردہ حالت میں کھیتوں میں پڑی تھیں، باقی کا کچھ معلوم نہیں۔ وزیر آباد سوہدرہ کے محمد نذیر و دیگر متاثرہ افراد کو مخیر افراد نے کھانا دیا تو انہوں نے لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے میں خود کھا لوں اور میرے جانور بھوکے رہیں۔ رانا بہرام گائوں میں ایک ٹریکٹر ٹرالی والے شخص نے کہا کہ میری زندگی کی جمع پونجی یہ جانور دو دن سے بھوکے ہیں، یہی صورت حال رہی تو بھوک سے مر جائیں گے۔ متاثرین کی بحالی کیلئے کام کرنے والی تنظیم ’مسلم ہینڈز انٹرنیشنل‘ کے پاکستان میں سربراہ ضیا النور کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کہتے ہیں ہمارے لئے بے شک کھانا نہ لائیں لیکن ہمارے جانوروں کیلئے چارے کا ضرور بندوبست کریں۔بی بی سی کے مطابق متعدد جانوروں کو دور دراز علاقوں میں بچا لیا گیا اور ان لوگوں نے مساجد میں اعلانات کروائے کہ فلاں شخص کے ڈیرے پر اتنے جانور کھڑے ہیں اور یہ جانور جس کے بھی ہیں وہ اپنی نشانی بتا کر لے جائیں۔ سمبٹریال کے علاقے بیگو والہ کے رہائشی محمد ممتاز کا کہنا ہے کہ انہوں نے 100 کے قریب گائے بھینسوں کو پانی سے نکالا جو مختلف علاقوں سے پانی میں بہہ کر آئی تھیں، تمام جانوروں کو ان کے مالکان نشانیاں بتا کر لے گئے ہیں۔ایک ویڈیو میں سوشل میڈیا صارف نے مشورہ دیا ہے کہ اپنے مال مویشی کے گلے میں یا سینگ کے ساتھ اپنا گاؤں، نمبر یا نا