چراغ کا اندھیرا۔۔۔!

 چوہدری افضل
استاد کسی بھی معاشرے کا وہ چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کے راستے روشن کرتا ہے۔ وہ بچوں کے ہاتھوں میں کتاب تھماتا، ذہنوں میں سوال جگاتا اور کردار میں انسانیت کی روشنی پیدا کرتا ہے۔ اس کی انگلی تھام کر چلنے والا بچہ ایک دن منزل تک پہنچ جاتا ہے، مگر اکثر وہ ہاتھ جس نے اسے راستہ دکھایا، خود زندگی کی کئی تاریکیوں سے گزرتا رہتا ہے۔ شاید یہی ہمارے عہد کا ایک گہرا سوال ہے۔
 جو چراغ سب کے لیے جلتا ہے، اس کے اپنے حصے کی روشنی کہاں ہے؟استاد کسی بھی معاشرے کا خاموش معمار بھی ہے۔ وہ اپنی ذات کی آسائشیں قربان کرکے دوسروں کے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ اس کی محنت کا صلہ محض چند الفاظ، ایک تعریفی سند یا سال میں کسی ایک دن کی تقریب نہیں، اصل صلہ تو یہ ہے کہ وہ خود بھی عزت، اطمینان اور معاشی تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ چراغ کی روشنی دوسروں تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے، مگر چراغ کا تیل بھی تو کہیں سے آنا چاہیے۔حکومتِ پنجاب کے محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے اکتوبر 2026ء کو ’’میرا استاد، میرا ہیرو‘‘ ۔کے عنوان سے منانے کا فیصلہ بلاشبہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ اساتذہ کے احترام، استاد اور شاگرد کے تعلق کی مضبوطی اور طلبہ میں اظہارِ تشکر کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد ایک مثبت سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ تقریری مقابلے ہوں، مضمون نویسی، نظم، پوسٹر سازی یا شکریہ کے پیغامات، یہ سب سرگرمیاں نئی نسل کو اپنے محسنوں کی قدر کرنا سکھاتی ہیں۔
مگر ہر روشنی اپنے ساتھ ایک سوال بھی لاتی ہے۔ کیا استاد کو ’’ہیرو‘‘ قرار دے دینا کافی ہے؟ ۔کیا اس چراغ کی روشنی کو سراہتے ہوئے اس کے تیل کی فکر نہ کرنا درست ہے؟ ۔کیا وہ شخص جو دوسروں کے بچوں کا مستقبل روشن کر رہا ہو، اگر اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان رہے تو محض ایک دن اسے خراجِ تحسین پیش کرکے ہم اپنی ذمہ داری پوری کر لیتے ہیں؟۔
’’میرا استاد، میرا ہیرو‘‘ اپنی جگہ ایک خوب صورت تصور ہے، مگر کیا خوب ہوتا اگر اسی احساس کے ساتھ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے پارٹنر اسکولوں اور نجی شعبے میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی کم از کم تنخواہوں کا سوال بھی اسی سنجیدگی سے سامنے آتا۔ ان اساتذہ کی ایک بڑی تعداد ایسے اداروں میں خدمات انجام دے رہی ہے جہاں وسائل محدود، انتظامی دباؤ زیادہ اور معاوضے اکثر ضروریاتِ زندگی کے مقابلے میں ناکافی ہوتے ہیں۔ مہینے بھر دوسروں کے بچوں کے ذہن روشن کرنے والا استاد اکثر اپنے گھر کا چراغ جلانے کے لیے خود حساب کتاب میں الجھا رہتا ہے۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہر نجی یا پیف پارٹنر سکول کی صورتِ حال یکساں نہیں، لیکن اس شعبے میں کم تنخواہوں اور معاشی عدم تحفظ کا مسئلہ سنجیدہ توجہ کا مستحق ضرور ہے۔ خصوصاً کم فیس والے سکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی مشکلات کو محض ادارے کا اندرونی معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیم کا معیار صرف نصاب، عمارت، فرنیچر اور طلبہ کی حاضری سے نہیں بنتا، اس کے پیچھے استاد کا اطمینان، معاشی تحفظ اور پیشہ ورانہ وقار بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ایک استاد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ وقت کا پابند ہو، مکمل تیاری کے ساتھ کلاس میں آئے، بچوں کی انفرادی ضروریات کو سمجھے، نتائج بہتر بنائے، تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لے اور ہر حال میں اپنے فرائض خوش دلی سے انجام دے۔مگر کبھی یہ سوال بھی تو ہونا چاہیے کہ جس شخص سے اتنی روشنی کی توقع کی جاتی ہے، اس کے اپنے چراغ میں تیل کتنا ہے؟۔
اگر ایک استاد کی آمدن گھر کے کرائے، بچوں کی فیس، بجلی کے بل، علاج اور روزمرہ اخراجات کے لیے ناکافی ہو تو اس کے ذہنی سکون اور تدریسی کارکردگی پر اثر پڑنا فطری ہے۔ جس ذہن پر معاشی فکروں کا بوجھ ہو، اس سے مسلسل تخلیقی توانائی اور غیر معمولی کارکردگی کی توقع کرنا بھی ایک طرح کی ناانصافی ہے۔استاد کو عزت دینا صرف اس کے سامنے کھڑے ہوکر تالیاں بجانے کا نام نہیں۔ عزت کا ایک عملی اظہار یہ بھی ہے کہ اس کی محنت کا مناسب معاوضہ مقرر کیا جائے، تنخواہ بروقت ادا ہو، ملازمت کا مناسب تحفظ ہو اور اسے ادارے کی ترقی میں محض ایک سستا ذریعہ کار نہ سمجھا جائے۔ چراغ کی تعریف اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کے جلنے کا انتظام بھی کیا جائے۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’دیکھو، کتنا روشن چراغ ہے‘‘، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ کب سے جل رہا ہے، کس تیل سے جل رہا ہے اور کہیں اس کی لو بجھنے تو نہیں لگی۔
پیف کے پارٹنر سکول ہوں یا نجی تعلیمی ادارے، ان میں کام کرنے والے اساتذہ بھی اسی تعلیمی نظام کا حصہ ہیں جس کے بہتر مستقبل کا خواب ہم دیکھتے ہیں۔ ادارے کا انتظامی ماڈل مختلف ہو سکتا ہے، مگر استاد کی بنیادی انسانی ضروریات، عزتِ نفس اور پیشہ ورانہ وقار مختلف نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم استاد کو قوم کا معمار اور نسلوں کا رہنما کہتے ہیں تو پھر اس معمار کے ہاتھ میں اتنے وسائل ضرور ہونے چاہییں کہ وہ اپنے گھر کی بنیاد بھی مضبوط رکھ سکے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کم از کم اجرت کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائے، پیف پارٹنر سکولوں اور نجی اداروں میں اساتذہ کے معاوضوں کی نگرانی کے لیے شفاف نظام قائم کرے اور ایسا طریقہ کار وضع کرے جس کے تحت اداروں کی مالی مشکلات کا بوجھ براہِ راست استاد کی تنخواہ پر نہ ڈالا جائے۔ ساتھ ہی تعلیمی اداروں کے لیے ایسا قابلِ عمل مالی معاونت اور نگرانی کا نظام بھی ہونا چاہیے جس سے استاد کو مناسب معاوضہ ملے اور تعلیم کا تسلسل بھی برقرار رہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ استاد کوئی مشین نہیں جس سے کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ کام لیا جائے۔ وہ بھی ایک انسان ہے، اس کے بھی خواب ہیں، گھر ہے، بچے ہیں اور زندگی کی بے شمار ذمہ داریاں ہیں۔ 
وہ دوسروں کے بچوں کو مستقبل کے خواب دکھاتا ہے، مگر کبھی کبھی اس کے اپنے خواب مہینے کی آخری تاریخ سے پہلے ہی بجٹ کی تنگی میں دم توڑ دیتے ہیں۔یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جو شخص ہر صبح دوسروں کے بچوں کے مستقبل میں روشنی کا ایک نیا باب لکھتا ہے، وہ شام کو اپنے گھر کے اخراجات کی تاریکی میں کھڑا حساب کرتا رہتا ہے۔ جو ہاتھ تختہ سیاہ پر بچوں کے خواب لکھتے ہیں، انہی ہاتھوں کو اکثر اوقات اپنے گھر کے چولہے، فیس اور بجلی کے بل کا حساب بھی پریشان کرتا ہے۔اکتوبر کا پورا مہینہ اساتذہ کے نام کرنا یقیناً قابلِ قدر ہے، لیکن اس مہم کی اصل کامیابی تب ہوگی جب استاد کا احترام تقریبات، نعروں اور پوسٹروں سے نکل کر پالیسی، تنخواہ اور عملی اقدامات کا حصہ بنے۔ اسکولوں کی دیواروں پر ’’میرا استاد، میرا ہیرو‘‘ کے پوسٹر ضرور لگائیں، مگر ان دیواروں کے اندر کھڑے اس استاد کے چراغ کو بھی دیکھیں۔ اسے صرف یہ نہ کہیں کہ تم دوسروں کے لیے روشنی ہو، یہ بھی یقینی بنائیں کہ اس کے اپنے گھر میں اندھیرا نہ ہو۔
کیونکہ ہیرو صرف وہ نہیں ہوتا جسے اسٹیج پر پھول پہنائے جائیں؛ ہیرو وہ بھی ہوتا ہے جو محدود وسائل اور بے شمار مشکلات کے باوجود اگلی نسل کے مستقبل پر اپنا آج قربان کر دیتا ہے۔استاد وہ چراغ ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک روشنی منتقل کرتا ہے۔ اس کی لو میں علم بھی ہے، کردار بھی، امید بھی اور مستقبل بھی۔ مگر چراغ کی روشنی کو ہمیشہ قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے حصے کا تیل بھی موجود ہو۔
’’میرا استاد، میرا ہیرو‘‘ کہنا خوب صورت ہے، مگر اس خوب صورتی کو سچ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہیرو کے چراغ کا اندھیرا بھی دور کیا جائے۔آخر سوال صرف یہ نہیں کہ استاد ہمارے لیے کتنا روشن ہے، سوال یہ بھی ہے کہ ہم نے اس کے لیے کتنی روشنی بچا رکھی ہے۔؟