رفیع صحرائی
سیاست میں کوئی دروازہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہوتا، بشرطیکہ اسے کھولنے والے ہاتھ موجود ہوں۔ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر اختلاف کو دشمنی اور سیاسی مقابلے کو جنگ بنا دینا جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات کا آغاز اسی اعتبار سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگرچہ جمعہ کو ہونے والا پہلا دور کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوا، لیکن کم از کم فریقین ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تو سہی۔ یہی بیٹھنا شاید آگے بڑھنے کی پہلی سیڑھی بن سکتا ہے۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں ہونے والے مذاکرات سے قبل ایک دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی۔ پی ٹی آئی کے وفد میں شامل محمود خان اچکزئی نے اس بنیاد پر شرکت سے معذرت کی کہ مذاکرات کسی غیر جانب دار مقام پر ہونے چاہئیں۔ ان کا مؤقف اپنی جگہ، تاہم یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کا چیمبر غیر جانب دار مقام کیوں نہیں ہو سکتا؟ اسپیکر ایوان کا کسٹوڈین ہوتا ہے، حکومت اور اپوزیشن دونوں کی نمائندگی کرنے والے ارکان کو ساتھ لے کر چلنا اس کی آئینی و پارلیمانی ذمہ داری ہے۔ اس اعتبار سے اسپیکر کا چیمبر مذاکرات کے لیے ایک موزوں مقام ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ بہرحال پی ٹی آئی نے اس اختلاف کو مذاکرات کے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا اور وفد کی ازسرنو تشکیل کے بعد بات چیت جاری رہی۔
مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات سے یہ بات واضح ہوئی کہ عمران خان سے ملاقات ان کے بنیادی مطالبات میں شامل ہے۔ راجہ ناصر عباس نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی، حالات میں بہتری پیدا نہیں ہوگی۔ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے بھی اسی مؤقف کی تائید کی۔ دوسری طرف بیرسٹر گوہر نے حکومتی وفد کے رویے کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماحول خوشگوار رہا اور بات چیت اچھی فضا میں ہوئی۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں سیاست دانوں کو اپنے الفاظ اور رویوں دونوں میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ مذاکرات کا مقصد ایک دوسرے کو شکست دینا نہیں بلکہ ایسا راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے جس پر دونوں فریق کسی نہ کسی درجے میں آگے بڑھ سکیں۔ اگر مذاکرات کی میز پر بھی وہی لب و لہجہ اختیار کیا جائے جو جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں ہوتا ہے تو پھر مذاکرات محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں۔
مذاکرات کے دوران راجہ ناصر عباس اور رانا ثناء اللہ کے درمیان تلخ کلامی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم اسپیکر ایاز صادق نے معاملہ سنبھال لیا۔ اختلافِ رائے سیاسی مذاکرات کا لازمی حصہ ہے، لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ تلخی کو فیصلے کی راہ میں حائل نہ ہونے دیا جائے۔ سیاسی قیادت کو یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ مؤقف پر مضبوط رہنا اور رویے میں سختی اختیار کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔
اب مذاکرات کا دوسرا دور اس لحاظ سے زیادہ اہم ہے کہ اس کے اثرات پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے فیصلے پر پڑ سکتے ہیں۔ اگر بات چیت سے کوئی قابلِ قبول پیش رفت ہوتی ہے تو احتجاج کو مؤخر کرنے یا اس کے طریق? کار پر نظرثانی کا راستہ نکل سکتا ہے۔ لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور احتجاج کا فیصلہ برقرار رہا تو ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ایسی صورت میں اگر خیبرپختونخوا میں غیر معمولی انتظامی اقدامات، گرفتاریوں یا کسی سخت حکومتی ردعمل کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو معاملہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ احتجاج کو روکنے کے لیے انتظامی طاقت وقتی طور پر راستہ روک سکتی ہے، مگر سیاسی اختلاف ختم نہیں کرتی۔ سیاسی مسئلے کا مستقل حل بالآخر سیاسی ہی ہوتا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ احتجاج جمہوری حق ضرور ہے، لیکن ہر احتجاج کے وقت، طریق? کار اور قومی حالات کو بھی پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔ ملک اس وقت دہشت گردی، معاشی دباؤ، مہنگائی اور دیگر سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں سیاسی قیادت پر عام حالات سے کہیں زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کے قومی اثرات کو بھی سامنے رکھے۔
یہ وقت حکومت کے لیے بھی امتحان ہے اور اپوزیشن کے لیے بھی۔ حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ طاقت اور انتظامی اقدامات سے سیاسی مسئلہ مستقل طور پر حل ہو جائے گا تو یہ ایک مشکل راستہ ہوگا۔ اسی طرح اپوزیشن اگر یہ سمجھتی ہے کہ ہر اختلاف کا جواب سڑکوں پر نکلنا ہی ہے تو اس سے بھی سیاسی مسائل کا مستقل حل برآمد نہیں ہوگا۔
درست راستہ وہی ہے جو مذاکرات، پارلیمانی عمل، آئینی حدود اور باہمی اعتماد کے ذریعے نکلے۔ حکومت کو اپوزیشن کے جائز مطالبات سننے چاہئیں اور اپوزیشن کو بھی قابلِ عمل راستے کی تلاش میں لچک دکھانی چاہیے۔ جمہوریت میں مکمل فتح کسی ایک فریق کی نہیں ہوتی؛ اصل کامیابی نظام، آئین اور عوام کے اعتماد کی ہوتی ہے۔
آج ہونے والے مذاکرات محض ایک سیاسی ملاقات نہیں بلکہ ہماری سیاسی قیادت کے تدبر کا امتحان ہیں۔ اگر دونوں طرف سے انا کو پیچھے چھوڑ کر ملک کو آگے رکھا گیا، کچھ مطالبات پر اتفاق اور کچھ پر مرحلہ وار پیش رفت کا راستہ نکالا گیا تو شاید ایک بار پھر یہ بات درست ثابت ہو کہ سیاست دان بند گلی میں بھی راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔
پاکستان کو اس وقت ایک اور سیاسی محاذ آرائی نہیں بلکہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے، اعتماد بحال کرنے اور قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار عارضی ہے، سیاسی اختلاف بھی عارضی ہے، لیکن ریاست اور عوام مستقل ہیں۔ آج کا دانش مندانہ فیصلہ آنے والی نسلوں کے لیے سیاسی روایت بن سکتا ہے، جبکہ آج کی ضد کل کا بحران بن سکتی ہے۔
مذاکرات کی میز پر بیٹھنا کمزوری نہیں، سیاسی قوت کی علامت ہے؛ اور اختلاف کے باوجود راستہ نکال لینا ہی بالغ سیاست کی اصل پہچان ہے۔