ابن امام
دنیا کے سیاسی افق پر کبھی ایسے لمحے آتے ہیں جو زمانوں کا دھارا بدل دیتے ہیں۔ آج فلسطین، خصوصاً غزہ، اسی دہلیز پر کھڑا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اکیس نکاتی منصوبے کی گونج عرب و عجم کے ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے۔ یہ منصوبہ بظاہر امن، تعمیر اور خوش حالی کا پیغام دیتا ہے، لیکن اس کے اوراق کے بیچ وہ سطور ہیں جو زخموں پر مرہم نہیں بلکہ نمک چھڑکتی ہیں۔
منصوبے میں جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی افواج کے انخلا کا تذکرہ ہے، مگر شرط یہ رکھی گئی ہے کہ حماس اور دیگر مزاحمتی قوتیں غزہ سے رخصت ہو جائیں۔ عرب و اسلامی ممالک کی مشترکہ فورس اور تعمیر نو کے وعدے بھی شامل ہیں، لیکن اس سب کے پیچھے وہی خواب پوشیدہ ہے جو اسرائیل اور امریکہ برسوں سے دیکھ رہے ہیں: ایک کمزور، غیر نمائندہ فلسطینی حکومت جو قابض کے خلاف مزاحمت نہ کرے۔
عرب رہنماؤں نے اس منصوبے پر مشروط حمایت ظاہر کی ہے۔ ان کی شرط ہے کہ اسرائیل غزہ یا مغربی کنارے کو ضم نہ کرے، مسجد اقصیٰ کی حیثیت برقرار رکھے اور فوری انسانی امداد فراہم کرے۔ مگر ان شرائط کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ فلسطینی عوام کو اس منصوبے میں مرکزی حیثیت نہیں دی گئی۔ نہ اسرائیل کی حدود متعین کی گئیں، نہ مسجد اقصیٰ کے تحفظ کا ذکر ہوا۔ قدس کے فیصلے کہیں اور لکھے جا رہے ہیں، اور یہی اس سازش کی سب سے بڑی نحوست ہے۔
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی دو ٹوک کہا کہ یہ منصوبہ بین الاقوامی قانون اور فلسطینی حقِ خود ارادیت کے منافی ہے۔ پاکستان نے عرب لیگ کی تجویز کی تائید کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ صرف اسی حل کا ساتھ دے گا جس میں فلسطینی عوام کی مرضی شامل ہو۔ یہ وہ اصولی مؤقف ہے جو دہائیوں سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔ مگر ٹرمپ کا موجودہ پلان ان شرائط سے عاری ہے جن پر مسلم ممالک سے بات ہوئی تھی۔
دوسری طرف، وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ حماس نے اس منصوبے کو پوری قوت سے مسترد کر دیا۔ ان کے نزدیک یہ ‘‘امن’’ نہیں بلکہ ہتھیار ڈالنے کا دوسرا نام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو قوتیں برسوں سے اپنی جانیں قربان کر کے مسجد اقصیٰ اور اپنی سرزمین کا دفاع کر رہی ہیں، وہ کیسے ہتھیار ڈال دیں؟ فلسطینی عوام کی اصل نمائندگی وہی کرتے ہیں جو میدانِ جنگ میں کھڑے ہیں، نہ کہ وہ جو مذاکرات کی میز پر محض وعدوں کے سہارے جیتے ہیں۔
اب مستقبل کے دروازے تین سمتوں میں کھل سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ مزاحمت مزید شدت اختیار کرے اور غزہ ایک نئے طوفان کا سامنا کرے۔ دوسرا یہ کہ عالمی برادری، خصوصاً یورپی ممالک، کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ اور تیسرا، جو سب سے زیادہ خطرناک ہے، یہ کہ امریکہ اور اسرائیل اس انکار کو جواز بنا کر مزید سخت اقدامات کریں، اور یوں خطہ ایک بار پھر خون اور بارود میں ڈوب جائے۔
یہ منصوبہ محض ایک دستاویز نہیں، یہ تاریخ کے دروازے پر دستک ہے۔ مگر تاریخ ہمیشہ طاقت کے ایوانوں کی نہیں سنتی۔ کبھی وہ ان پتھروں کو بھی بولنے پر مجبور کر دیتی ہے جن پر بے گناہوں کا خون بہا ہو۔ آج سوال یہ ہے کہ آنے والا کل کس کے نام لکھا جائے گا؟ ٹرمپ کے اکیس نکات کے مصنفین کے نام پر، یا ان بچوں کے ہاتھ میں جو غزہ کی گلیوں میں آزادی کے خواب لیے موت کے سائے میں کھیلتے ہیں۔
اللہ کریم قدسیوں کو، مسلم حکمرانوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
از: ابنِ امام