شہزاد راجپوت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایران جنگ محض مشرقِ وسطیٰ کا ایک فوجی اور سفارتی محاذ ثابت نہیں ہوئی بلکہ اس کے اثرات اب امریکی سیاست کے اندر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ 3 نومبر 2026ء کو ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج نے وائٹ ہاؤس کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ امریکی عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، معاشی حکمت عملی اور بالخصوص ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ بظاہر یہ انتخابات کانگریس کی نشستوں کے حصول کی جنگ تھے لیکن سیاسی اعتبار سے ان کا اصل محور خود ڈونلڈ ٹرمپ بن گئے۔امریکی مڈٹرم انتخابات ہمیشہ موجودہ صدر کی کارکردگی کا ایک اہم امتحان سمجھے جاتے ہیں۔ ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہوا۔ ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ ڈیموکریٹس نے ساؤتھ کیرولائنا میں ری پبلکن جماعت سے اہم سینیٹ نشست چھین لی، جہاں اینی اینڈریوز نے ڈارلین گراہم کو شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ ساؤتھ کیرولائنا میں گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں کسی ڈیموکریٹ نے سینیٹ کی نشست نہیں جیتی تھی۔اسی طرح ٹیکساس میں جیمز ٹیلاریکو نے ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار کین پیکسٹن کو شکست دے کر ایک بڑا سیاسی اپ سیٹ کیا۔ ٹیکساس میں 1988ء کے بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک امیدوار نے سینیٹ کی نشست جیتی۔ شمالی کیرولائنا میں رائے کوپر اور جارجیا میں جون اوسوف کی کامیابی نے بھی.ڈیموکریٹس کی پوزیشن مضبوط کی۔ اوہائیو میں شیروڈ براؤن نے ری پبلکن امیدوار کو شکست دے کر ایک اور اہم نشست ڈیموکریٹس کے نام کی۔ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس کی پوزیشن مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ابتدائی انتخابی جائزوں اور میڈیا کی پیش گوئیوں کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کی پوزیشن میں پہنچ گئی ہے۔ ایوان میں اکثریت کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے تین نشستوں کے خالص اضافے کی ضرورت تھی۔ حتمی گنتی مکمل ہونے تک کانگریس کی دونوں ایوانوں میں پارٹی پوزیشن کے بارے میں محتاط رہنا ضروری ہے تاہم ابتدائی نتائج ری پبلکن جماعت کے لیے خاصے پریشان کن ہیں۔ان انتخابی نتائج کے پیچھے سب سے اہم عوامل میں ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی عوام کے لیے خارجہ پالیسی سے زیادہ اہم ان کی روزمرہ زندگی، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں، توانائی کے اخراجات اور معاشی تحفظ ہیں۔ جنگ کے اخراجات اور اس کے معاشی اثرات نے پہلے سے مہنگائی کا سامنا کرنے والے امریکی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔انتخابی جائزوں کے اعدادوشمار بھی ٹرمپ انتظامیہ کے لیے تشویش ناک ہیں۔ تقریباً 90 فیصد ووٹرز نے مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کو اپنے ووٹ کے فیصلے میں اہم یا بنیادی عنصر قرار دیا۔ تقریباً دو تہائی ووٹرز نے ملک میں بلند قیمتوں کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھہرایا جبکہ 62 فیصد ووٹرز نے ان کی مجموعی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ تقریباً 70 فیصد امریکی ووٹرز کی رائے تھی کہ کانگریس کو صدر کے اختیارات پر مزید مؤثر نگرانی اور توازن قائم کرنا چاہیے۔ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت بھی تقریباً 38 فیصد تک محدود رہی، جو ان کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد اب صدر کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہی ہے۔ ایران جنگ اور تجارتی محصولات سمیت حکومتی فیصلوں کو بھی عوام نے اپنی معاشی مشکلات سے جوڑا ہے۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران جنگ ہی ٹرمپ کی انتخابی مشکلات کی واحد وجہ بنی؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں۔ مہنگائی، روزگار، حکومتی کارکردگی، تجارتی محصولات اور سیاسی تقسیم سمیت کئی عوامل نے مل کر عوامی رائے کو متاثر کیا ہے تاہم ایران جنگ نے ان تمام مسائل کی شدت میں اضافہ کیا اور ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو انتخابی بحث کا اہم موضوع بنا دیا۔ان نتائج کا ایک بڑا سیاسی پہلو یہ بھی ہے کہ اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے آئندہ دو سال میں حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد آسان نہیں رہے گا۔ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی مضبوط موجودگی سے حکومتی اخراجات، جنگی پالیسی، انتظامی فیصلوں اور دیگر اہم معاملات پر سخت سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ یوں ٹرمپ کو اپنی باقی مدتِ صدارت میں سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ٹرمپ نے انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے ری پبلکن جماعت کے نقصانات کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ ان کی بیلٹ پر موجودگی نہ ہونا بھی اس صورتحال کی ایک وجہ ہے۔ لیکن سیاسی مبصرین کے نزدیک یہ نتائج محض چند امیدواروں کی شکست نہیں بلکہ صدر کی سیاسی مقبولیت اور حکومتی پالیسیوں کے بارے میں عوامی رائے کا واضح اشارہ ہیں۔مجموعی طور پر امریکی مڈٹرم انتخابات نے یہ پیغام دیا ہے کہ امریکی عوام اپنے صدر سے صرف طاقتور خارجہ پالیسی نہیں بلکہ معاشی استحکام، بہتر طرزِ زندگی اور داخلی مسائل کا حل بھی چاہتے ہیں۔ ایران جنگ نے ٹرمپ کے لیے بین الاقوامی سطح پر جتنے چیلنجز پیدا کیے۔ ان کے اثرات اب داخلی سیاست میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان نتائج سے ٹرمپ کی صدارت کا مستقبل طے ہو گیا ہے لیکن اتنا واضح ہے کہ ان کے لیے سیاسی میدان پہلے سے زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ ایران جنگ، مہنگائی اور عوامی ناراضی کا امتزاج ری پبلکن جماعت کے لیے ایک بڑا انتخابی دھچکا بن کر سامنے آیا ہے۔ آنے والے دنوں میں مکمل نتائج واضح کریں گے کہ یہ محض ایک انتخابی جھٹکا تھا یا امریکی سیاست میں کسی بڑی امریکی عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے ایک اہم پیغام دے دیا ہے۔جنگی طاقت اور سیاسی نعروں سے زیادہ اہم عوام کی معاشی خوشحالی اور ان کے بنیادی مسائل کا حل ہے۔