ویب ڈیسک: انگلینڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن (ایف اے) نے اعلان کیا ہے کہ یکم جون سے ٹرانسجینڈرخواتین ویمن فٹ بال میچز میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔
ایف اے نے 11 اپریل کو اپنے قواعد میں تبدیلی کی تھی جس کے تحت ٹرانسجینڈرخواتین کے لیے خواتین کے فٹ بال میں کھیلنے کے لئے سخت شرائط عائد کی گئی تھیں۔ تاہم، برطانیہ کی سپریم کورٹ کے 15 اپریل کے فیصلے کے بعد، جس میں خواتین کی قانونی تعریف حیاتیاتی جنس پر کی گئی، ایف اے نے اپنی پالیسی کو ختم کر دیا ہے۔اب صرف وہی خواتین کھیل سکیں گی جو حیاتیاتی طور پر عورت پیدا ہوئی ہوں۔ رپورٹ کے مطابق ایف اے کا کہنا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور اگر قانون، سائنس یا پالیسی میں کوئی اہم تبدیلی آتی ہے تو وہ اس کا جائزہ لیں گے۔
ایف اے نے بتایا کہ یہ فیصلہ ٹرانسجینڈرخواتین کے لیے مشکل ہو گا کیونکہ انگلینڈ میں اس وقت صرف 30 سے کم ٹرانسجینڈرخواتین رجسٹرڈ ہیں، اور ایف اے ان سے رابطہ کر رہا ہے تاکہ انہیں تبدیلیوں کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔