ایران کو چاہیے وہ اپنا جواب دے مگر دوست ممالک پر حملہ نہ کرے سکیورٹی ذرائع

   پاکستان خطے میں کسی بھی غیر ضروری کشیدگی میں ملوث نہیں ہونا چاہتا ، ، ایران کے حوالے سے پاکستانی پالیسی، حکمت عملی بالکل درست  ہے
نیوکلیئر ریاستوں سے غیر ضروری تنازعہ نہیں کرنا چاہیے،  اگر کوئی پاکستان کو چیلنج کرے تو ہمیں جواب دینے کی پوری صلاحیت حاصل ہے
بھارت کیخلاف صرف 10 فیصد طاقت استعمال کی،  90 فیصد مستقبل کے حالات کیلئے محفوظ ہے،  افغان طالبان کے خلاف آپریشن  جاری رہے گا 
  راولپنڈی ( آن لائن ) پاکستان کے سیکیورٹی ذرائع نے  واضح کیا ہے   پاکستان خطے میں کسی بھی غیر ضروری کشیدگی میں ملوث نہیں ہونا چاہتا ، ہمیشہ بین الاقوامی اصولوں اور سفارتی آداب کا احترام کرتا ہے، ایران کے حوالے سے پاکستانی پالیسی کو بیلنسڈ قرار دیتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ موجودہ حکمت عملی بالکل درست سمت میں ہے،نیوکلئیر ریاستوں سے غیر ضروری تنازعہ نہیں کرنا چاہیے، لیکن اگر کوئی پاکستان کو چیلنج کرے تو ہمیں جواب دینے کی پوری صلاحیت حاصل ہے۔ ‘‘ایران کو چاہیے کہ وہ اپنا جواب دے مگر دوست ممالک پر حملہ نہ کرے، آپریشن سنڈور میں  فوج اور عوام کے درمیان اتحاد قائم رہا،‘اس آپریشن میں ہم نے اپنی صرف 10 فیصد طاقت استعمال کی، باقی 90 فیصد مستقبل کے حالات کے لیے محفوظ ہے، آپریشن ضرب للحق  افغان طالبان رجیم کے خلاف جاری رہے گا جب تک وہ دہشتگردوں یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کر لیتے۔  خطے کی موجودہ صورتحال پر  سیکیورٹی اداروں نے اپنا واضح موقف  پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ملکی فوجی قیادت قومی سلامتی اور علاقائی خطرات کے حوالے سے واضح اور منظم حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ فیلڈ مارشل نے یہ واضح کیا ہے کہ حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، فوج ہمیشہ اس کی ہدایات پر عمل کرے گی۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بھارت کے خلاف کیے گئے آپریشن کامیابی کے ساتھ انجام پائے، جس پر فوجی قیادت مطمئن ہے۔ ‘‘ہمیں ہمارے اقدامات کے نتائج پر خوشی ہے،’’ ذرائع نے کہا۔ذرائع نے داخلی معاملات میں شفافیت کی ضرورت پر بھی زور دیا اور مظاہرین کی ہلاکت کے معاملات کی تحقیقات کے لیے  جے آئی ٹی تشکیل دینے  کی تجویز دی‘سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ آپریشن ضرب للحق  افغان طالبان رجیم کے خلاف جاری رہے گا جب تک وہ دہشتگردوں یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کر لیتے۔ ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ افغان عوام پاکستان کے دوست ہیں اور کارروائی کا مقصد صرف دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہے۔