نیو یارک: ایلون مسک کے خلاف احتجاج، پولیس نے 9 مظاہرین گرفتار کر لیے

نیو یارک: ایلون مسک کے خلاف احتجاج، پولیس نے 9 مظاہرین گرفتار کر لیے

نیویارک میں ہفتے کے روز ٹیسلا شوروم کے باہر مظاہرین نے ایلون مسک کی وفاقی ملازمین کی برطرفیوں میں مبینہ شمولیت کے خلاف احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں پولیس نے 9 افراد کو گرفتار کیا۔

'ٹیسلا ٹیک ڈاؤن' نامی اس احتجاج میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی، جو امریکا بھر میں ٹیسلا کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا حصہ تھا۔ مظاہرین نے سڑکیں بلاک کیں اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر "ٹیسلا جلاؤ، جمہوریت بچاؤ" اور "امریکا میں آمریت نامنظور" جیسے نعرے درج تھے۔ایلون مسک، جو دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں 'ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی' (DOGE) کے سربراہ ہیں۔ وہ وفاقی حکومت کے دائرہ کار کو محدود کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک لاکھوں ملازمین برطرف کیے جا چکے ہیں اور سینکڑوں امدادی معاہدے ختم کر دیے گئے ہیں۔

100,000 سے زائد وفاقی ملازمین یا تو نوکریاں چھوڑ چکے ہیں یا برطرف کیے جا چکے ہیں، جن میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے ماہرین، سائنسی محققین اور توانائی فراہم کرنے والے عہدیداران شامل ہیں۔مظاہروں کے منتظمین نے عوام سے ٹیسلا کے شیئرز فروخت کرنے اور کمپنی کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ معروف اداکار اور فلمساز ایلکس ونٹر نے کہا کہ "مسک کو ٹیسلا سے الگ کرنا، اس حکومت کے پیسے اور طاقت پر کاری ضرب ہوگا۔"ٹیسلا اور وائٹ ہاؤس کے ترجمانوں نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔