پارلیمانی کارروائی کے 130 دن ، 36 حکومتی اور 6 نجی ارکان کے بلز قانون بنے
26 قراردادیں منظور ، 69 کالنگ اٹینشن نوٹس ،4 موشنز قاعدہ 259 پر بحث ہوئی
ایوان میں بولنے کیلئے حکومتی اراکین کو 71 ، اپوزیشن ار کان کو 66 گھنٹے کا وقت دیا گیا
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں قومی اسمبلی کے 16 ویں سیشنز کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہوگیا ،اس دوران 40 حکومتی اور 11 نجی ارکان کے بلز منظور ہوئے جبکہ 36 حکومتی بلز 6 نجی ارکان کے بلز قانون بنے ،قومی اسمبلی کے 13 سیشنز ہوئے اور پارلیمانی کارروائی کے 130 دن مکمل ہوئے ، اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری اعداد شمار کے مطابق پہلے پارلیمانی سال کے دوران 26 قراردادیں منظور کی گئیں اور 1059 نشاندار اور 264 غیر نشاندار سوالات کے جوابات وزارتوں کی جانب سے دئیے گئے۔ اس کے علاوہ 69 کالنگ اٹینشن نوٹس اور 4 موشنز برائے قاعدہ 259 پر بحث کی گئی ، اس دوران ایک اہم سنگ میل 26 ویں آئینی ترمیم کے بل کی منظوری تھی، دیگر اہم قانون سازی میں "ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 "الیکٹرانک جرائم کی روک تھام (ترمیمی) ایکٹ 2025" شامل ہے، ۔پہلے پارلیمانی سال کے دوران حکومتی ار کان کو ایوان میں 71 جبکہ اپوزیشن ار کان کو 66 گھنٹے بولنے کا وقت دیا گیا، جو کہ ان کی ایوان میں تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔قانون سازی کے علاوہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی "رائٹ سائزنگ" کا عمل تین مراحل میں جاری ہے۔ جس کے نتیجے میں گریڈ 1 سے 19 تک کی 220 غیر ضروری اسامیاں ختم کی گئیں ، پہلے پارلیمانی سال کے دوران سپیکر نے ایوان کی کارروائی کو غیر جانبداری کے ساتھ چلایا ، قانون سازی کے عمل میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کردار ادا کیا ، سپیکر نے وقفہ سوالات کے مقررہ گھنٹے کو خصوصی اہمیت دی تاکہ عوامی مسائل کو اجاگر اور ان کا حل نکالا جا سکے۔اس دوران سپیکر آفس سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ پہلے پارلیمانی سال میں چین، یونائٹڈ کنگڈم، برطانیہ، آسٹریلیا، بیلجئیم، جرمنی، فن لینڈ، اٹلی، سکاٹ لینڈ، ہنگری، بیلاروس، پرتگال، سپین، جاپان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، ترکیہ، قطر، اردن، شام، آذربائیجان، قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، الجیریا اور ایتھوپیا کے پارلیمانی وفود نے پارلیمنٹ ہائوس میں سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی، اس دوران باہمی مفادات اور تعاون کے مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ورلڈ بینک کا ایک وفد اور ایرانی پارلیمانی وفد بھی مذاکرات میں شریک ہوا ، جو پاکستان کی عالمی شراکت داریوں اور سفارتی تعلقات کے عزم کو ظاہر کرتا ہے ، سپیکر نے کینیڈا، صومالیہ، بیلاروس، یونائٹڈ کنگڈم، الجیریا، ارجنٹائن، فرانس، ترکیہ، بیلجئیم ، مصر، مراکش، سوئٹزرلینڈ، سنگاپور، جنوبی کوریا، انڈونیشیا، ہنگری، یوکرین، کر عز جمہوریہ، ملائیشیا، ازبکستان، ویتنام، برازیل، تاجکستان، میکسیکو، چلی، نیپال، سعودی عرب، چین، جرمنی، یوگنڈا، سپین، آذربائیجان، آسٹریا، ترکمانستان، چیک جمہوریہ، کمبوڈیا، پولینڈ، عمان، لبنان، البانیہ، رومانیہ، متحدہ عرب امارات، فن لینڈ، تنزانیہ، کینیا، قازقستان، بحرین اور قطر کے ہم منصبوں سے ملاقاتیں کیں ، ان ملاقاتوں نے پارلیمانی تعاون کو مستحکم کرنے اور مختلف علاقائی اور عالمی مسائل پر باہمی افہام و تفہیم پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا۔