کارپوریٹ فارمنگ۔ ۔۔۔۔۔۔ترقی یاتباہی

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
کارپوریٹ فارمنگ کاایک سب سے بڑاخطرہ یہ ہے کہ اس میں زیادہ پیداوارکیلئے جوبیج استعمال کیے جاتے ہیں،وہ زمین کی زرخیزی کوشدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ان بیجوں میں جینیاتی طورپرترمیم شدہ اورہائیبرڈبیج شامل ہوتے ہیں جووقتی طورپرپیداوار میں اضافہ توکرتے ہیں لیکن10سے 20سال کے عرصے میں زمین کونامیاتی زرخیزی سے محروم کر دیتے ہیں۔جس کے نتیجے میں زمین بنجربعدمیں کسی بھی قسم کی کاشت کے قابل نہیں رہتی۔
اس قسم کی کارپوریٹ کاشتکاری کے منفی اثرات افریقی ممالک،خاص طورپرایتھوپیا،سوڈان اوردیگرخطوں میں دیکھے جاچکے ہیں،جہاں بین الاقوامی کمپنیاں بڑی مقدارمیں زرعی زمینوں کوخریدکربرآمدی فصلیں اگاتی ہیں،مگربعدازاں وہ زمین مکمل طورپر بنجرہوجاتی ہے۔اس کے بعدوہ زمین کسی بھی زراعت کے قابل نہیں رہتی،جس کے نتیجے میں مقامی کسانوں اورملکی معیشت کو شدیدنقصان پہنچتاہے۔یہ خدشہ ظاہرکیاجارہاہے کہ پاکستان میں بھی یہی حکمتِ عملی اپنائی جارہی ہے تاکہ طویل المدتی بنیادوں پر زرعی زمین کوناکارہ بنادیاجائے اورملک کوخوراک کے بحران کی طرف دھکیلاجائے۔
حکمرانوں کے مطابق عوام ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ بنتے ہیں،جبکہ عوام کاکہناہے کہ ترقیاتی منصوبے ان کے مشورے کے بغیرتیارکیے جاتے ہیں۔عوام کی رائے کوترقیاتی پالیسیوں میں شامل کرنے سے اس خلیج کوکم کیاجاسکتا ہے۔عوامی نمائندوں کے ذریعے ترقیاتی فیصلے کیے جائیں تاکہ شفافیت اوراعتمادکویقینی بنایاجاسکے۔
پاکستان دنیاکیان10ممالک میں شامل ہے جوپانی کی شدید قلت اورشدید قحطِ آب کاشکارہے۔موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہمالیہ کے گلیشیئرزتیزی سے پگھل رہے ہیں،جس سے دریاں میں مدتی اضافہ توہوتاہے لیکن2050تک دریائی پانی کے ذخائر30-40%تک کم ہوسکتے ہیں۔ہمیں ماحولیاتی ماہرین سے ہی پتہ چلتاہے کہ ہمارے گلیشیئر اتنی
تیزی سے پگھل رہے ہیں کہ اگلی نصف صدی میں دریااورصحراکافرق مٹ جائے گا۔ماہرین کے مطابق دریائے سندھ کاڈیلٹاسمندرکی بلندہوتی سطح کی وجہ سے سالانہ3.5میٹر کی رفتارسے سکڑرہاہے۔ماحولیاتی ماہرین کے مطابق،ہمارے گلیشیئرتیزی سے پگھل رہے ہیں،جس کی وجہ سے آئندہ نصف صدی میں دریاں کاوجودختم ہوسکتاہے اوروسیع علاقے صحرامیں تبدیل اورہماری ناقص حکمت عملی کاماتم کررہے ہوں گے ۔
ارساکے اعداد وشمارکے مطابق،موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پنجاب کوضرورت سے14فیصداورسندھ کو20فیصدکم پانی مل رہا ہے۔سندھ میں زیریں علاقوں میں پانی کی قلت نے نمکین پانی کواندرونی علاقوں تک دھکیل دیاہے،جس سے کاشتکاری کے قابل زمینیں کم ہورہی ہیں۔اس قلت کی وجہ سے انڈس ڈیلٹاکوسمندرمسلسل اپنی لپیٹ میں لے رہاہے ، جس سے ہزاروں ایکڑزرخیززمین متاثرہورہی ہے۔مزیدبرآں،ہمارے ماحولیاتی نظام میں سیلاب اورخشک سالی جیسے شدید تغیرات کاسامناہے،لیکن پیشگی انتباہی نظام کی عدم موجودگی کے سبب بروقت اقدامات نہیں کیے جاسکتے۔
موسمیاتی تبدیلی نے بارشوں کے پیٹرن کوغیرمتوقع بنادیاہے۔2022کے سیلاب نے ملک کے33%رقبے کومتاثرکیاجبکہ2018-2023 کے دوران خشک سالی نے جنوبی پنجاب اورسندھ میں فصلیں تباہ کیں۔سرکاری ادارے سیلاب اورقحط کی درست پیشگوئی کرنے میں ناکام ہیں،جس کی وجہ سے کسانوں کی منصوبہ بندی مشکل ہوگئی ہے۔ملکی خزانے سے لاکھوں روپے مشاہرہ لینے والے یہ توبتاتے ہیں کہ ڈان سٹریم پانی کی مسلسل قلت کے سبب انڈس ڈیٹاکوسمندرنگل رہاہے مگران میں سے کوئی نہیں بتاتاکہ کس برس سیلاب آئے گااورکس برس اتنی کم بارشیں ہوں گی کہ ارضِ وطن کی زرخیز زمینوں کے چہروں کاحسن ماندپڑجائے گاجبکہ دوسری طرف ہمارا ازلی دشمن انڈیاجو1960میں تین مشرقی دریالینے کے باوجود مسلسل بضدہے کہ سندھ طاس معاہدے پرازسرِنوغوروقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس پس منظرمیں جب یہ خبرہماری فوج کے سپہ سالاراورپنجاب کے وزیراعلی کی تصویرکے ساتھ شائع ہوتی ہے کہ وفاق اور پنجاب نے چولستان میں70لاکھ ایکڑکوباغ وبہاربنانے کامنصوبہ شروع کردیا ہیتونچلے صوبوں میں ایک نئی بے چینی پھیلنے کا آغازہم نے اپنے ہاتھوں سے شروع کردیاہے جبکہ مشترکہ مفادات کی آئینی کونسل کااجلاس بھی11ماہ سے نہیں ہواجہاں صوبوں کے پانی کے تنازعات ہنوزحل طلب ہیں۔اقتدارایسی بری لالچ ہے کہ خود صدرِمملکت آصف زرداری ہرے بھرے پاکستان پروجیکٹ کے ساتھ ہیں مگران کی پارٹی پارلیمنٹ کے اندرباہراس منصوبے پرمسلسل تحفظات بھی جتارہی ہے۔سرسبزپاکستان سازوں کاکہنا ہے کہ چولستان کی سیرابی کسی صوبے کے طے شدہ آبی کوٹے کوکم کرکے نہیں ہوگی بلکہ اس کیلئیاضافی پانی یاتوانڈیا کودیے گئے دریائے ستلج کے مون سون سیلاب سے حاصل ہوگایاپھرپنجاب اپنے کوٹے میں سے پانی کی قربانی دے گا۔
٭ان تمام اہم مسائل کیلئے ضروری ہے کہ ہم قومی وسائل کو صرف مخصوص طبقات میں تقسیم کرنے کی بجائے عوام کواس میں براہ راست شریک کیا جائے۔ 
٭ترقیاتی منصوبے بنانے سے پہلے عوامی فورمز اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے لی جائے۔
٭پانی کی منصفانہ تقسیم کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کوتسلسل سے بلایاجائے تاکہ تمام صوبوں کویکساں مواقع فراہم ہوں۔
٭چھوٹے کسانوں کومراعات،جدیدزرعی تربیت،کم لاگت قرضے،اورمارکیٹ تک آسان رسائی کے اقدامات کیے جائیں۔
٭بیرونی قرضوں کے معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں تاکہ شفافیت کویقینی بنایاجاسکے۔
٭گلیشیئرپگھلااورآبی قلت کے خطرات کوکم کرنے کیلئیجدید طریقے اپنائے جائیں۔
٭حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کیلئے عوام کوفیصلہ سازی میں شامل کیاجائے اورترقیاتی منصوبوں پرکھلی بحث کی جائے تاکہ اعتمادمیں اضافہ ہو۔
یادرہے کہ تحقیق بتاتی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کیلئے صرف بڑے فیصلے کافی نہیں،بلکہ ان پرعمل درآمد کے دوران شفافیت،مشاورت،اوروسائل کی منصفانہ تقسیم کوبھی یقینی بناناضروری ہے۔جب عوام کوترقی میں شراکت داربنایاجائے گا،تب ہی وہ خود کواس ملک کاحقیقی حصہ سمجھیں گے۔
لیکن دوسری طرف حکومتی اقدام سے چھوٹے کسانوں کی معاشی کمزوری اورزمینوں کے مرکزی اثرات پرکوئی توجہ نہیں دی گئی۔کیمیائی کھادوں اورپانی کے زیادہ استعمال سے زمینی تنزلی کے بچاؤکیلئے کوئی تجویزسامنے نہیں آئی۔زمین کی ملکیت کے حقوق اورمقامی آبادیوں کے حقوق سے متعلق تنازعات سے کیسے نمٹاجائے گا،اس کے متعلق کوئی منصوبہ بندی سامنے نہیں آئی۔ پاکستان میں موسمیاتی تغیرات(جیسے سیلاب،خشک سالی)کاخطرہ منڈلارہاہے،اس کے علاج کیلئے کوئی ٹھوس تجاویزتیارنہیں کی گئیں۔
پاکستان کی زرعی پالیسیوں نے پیداوارمیں تواضافہ کیالیکن وسائل کی غیرمساوی تقسیم،کارپوریٹ فارمنگ کے منفی اثرات،پانی کی قلت اورماحولیاتی تغیرات نے ان اصلاحات کے اصل فوائدعوام تک پہنچنے نہیں دیے۔مستقبل میں ان مسائل سے نمٹنے کیلئے پائیدار زرعی پالیسیوں، بہتر آبی وسائل کے انتظام اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ زرعی شعبے کی ترقی کااہم ذریعہ ہوسکتی ہے لیکن اس کیلئے منصفانہ پالیسیاں،ماحولیاتی تحفظ، اورمقامی آبادیوں کے مفادات کاخیال رکھناضروری ہے۔اگرچیلنجزکوحل کیاجائے تویہ پاکستان کی معیشت کونئی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔
یوں توہرآئے دن مقتدرحلقوں کی طرف سے پیغامات جاری ہوتے ہیں کہ ہم سب کوپاکستانی بن کرسوچناچاہئے مگراب یہ ناخواندہ ،درماندہ مخلوق چیخ چیخ کرفریادکررہی ہے کہ جس دن قومی وسائل کو25ہزارخاندانوں کی بجائے25کروڑپرتقسیم کردیاجائے گاتو اس دن ہرشخص آپ سے بہترپاکستانی بن کرسوچنے لگے گا،بس اسی دن کاانتظارہورہاہے۔