سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
پاکستانی ریاست اورعوام کے درمیان ترقی کے حوالے سے ایک بنیادی خلیج ہمیشہ سے موجودرہی ہے۔حکمران ہمیشہ ترقیاتی منصوبوں کااعلان کرتے رہے ہیں،مگرعوام کاایک بڑا حصہ ان منصوبوں پرشکوک وشبہات کااظہارکرتاچلاآرہاہے۔آخراس کی کیا وجہ ہے کہ پاکستانی عوام اورحکمران ایک دوسرے پرالزام تراشی کرتے رہتے ہیں اوراس کاملک کی ترقی پرکیااثرپڑتاہے۔پاکستان کی زرعی معیشت میں اصلاحات کی کوششیں مختلف ادوارمیں کی گئیں،لیکن ان کے نتائج آج بھی بحث ومباحثے کا موضوع ہیں۔ایوب خان کی زرعی اصلاحات سے لے کر بھٹودورکے مزیدسخت اقدامات تک،اوربعدمیں جدیدزرعی طریقوں کے رواج تک،ان تمام پالیسیوں کامقصدزرعی پیداوارمیں اضافہ اورغربت میں کمی تھا۔تاہم،ان پالیسیوں کے اثرات متضادنظرآتے ہیں۔ ایک طرف سبزانقلاب کے ذریعے پیداوارمیں اضافہ ہوا،تودوسری طرف غربت کی شرح میں نمایاں کمی نہ آسکی۔
یہ تسلیم کرناہوگاکہ پاکستان کی زرعی تاریخ میں اصلاحات کاسلسلہ معاشی ترقی،غربت کے خاتمے،اورخوراک کی خودکفالت کے خوابوں سے جڑاہواہے۔تاہم،ان کوششوں کے نتائج اکثرمتنازعہ رہے ہیں۔اگرہم ماضی کی طرف نظردوڑائیں توایوب خان اوربھٹو کے زرعی پروگراموں،سبزانقلاب کے اثرات، کارپوریٹ فارمنگ کے ماحولیاتی خطرات،اور پانی کے بحران کوتنقیدی نظرسے پرکھیں توہمیں پتہ چلتاہے کہ پہلی مرتبہ1959اور1963میں ایوب خان نے جاگیردارانہ نظام کوکمزورکرنے کیلئے زمینی اصلاحات نافذ کیں، جس کے تحت40لاکھ ایکڑزمین بڑے زمینداروں سے لے کربے زمین کسانوں میں تقسیم کی گئی۔انہوں نے منگلاڈیم (1967)اورتربیلا(1976)جیسے منصوبوں کے ذریعے پانی کے ذخائراوربجلی کی پیداواربڑھائی۔تربیلاڈیم کی تعمیر1968 میں شروع ہوئی اور1976میں اس کی تکمیل ہوئی اوریہ دنیاکاسب سے بڑازمین سے بنایا گیاڈیم ہے اور پاکستان میں بجلی اورآبپاشی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
یہ اقدامات زرعی پیداوارمیں اضافے کی بنیادبنے،لیکن زمین کی غیرمنصفانہ تقسیم اورنوکرشاہی کے اثرات کی وجہ سے غربت میں واضح کمی نہ ہوسکی۔بعدازاں ذوالفقارعلی بھٹو نے1972 اور1977میں زمین کی ملکیت کی زیادہ سے زیادہ حدکوکم کرکے ایوب خان کے پروگرام کو’’ناکافی‘‘قراردیا۔ان اصلاحات کامقصددیہی علاقوں میں طبقہ ورائی کوختم کرناتھالیکن سیاسی مخالفت اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کی وجہ سے یہ بھی مکمل طورپرکامیاب نہ ہوسکا۔پھرسوال اٹھتاہے کہ زرعی ترقی کے ثمرات کس کوملے؟بعض ناقدین کاکہناہے کہ زرعی ترقی سے حاصل شدہ فوائدزیادہ تر عسکری،نوکرشاہی اورکاروباری طبقے میں محدودہوکررہ گئے ۔اس کے برعکس،حکومتی مقف یہ ہے کہ پیداوارمیں دوگنااضافہ ہوالیکن عوام کی آبادی میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہونے کے سبب غربت کاخاتمہ ممکن نہ ہوسکا۔
ایک بڑامسئلہ یہ ہے کہ حکومت عوام سے اعتمادکی توقع رکھتی ہے،جبکہ عوامی حلقے حکومت پرمکمل بھروسہ نہیں کرتے۔ ووٹرزکاکہناہے کہ جب حکومت خوداپنی عدلیہ اورپارلیمنٹ پراعتماد نہیں کرتی توعوام حکومت پرکیسے یقین کریں؟ترقیاتی منصوبے اکثراس شک وشبہ کاشکارہوجاتے ہیں کیونکہ عوام ان کی شفافیت پرسوالات اٹھاتے ہیں۔عوام کایہ بھی مطالبہ ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی تیاری میں عوام کی رائے کوبھی شامل کیاجائے تاکہ عوامی ضروریات کے مطابق پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں۔
حکمرانوں کے مطابق عوام ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ بنتے ہیں،جبکہ عوام کاکہناہے کہ ترقیاتی منصوبے ان کے مشورے کے بغیرتیارکیے جاتے ہیں۔عوام کی رائے کوترقیاتی پالیسیوں میں شامل کرنے سے اس خلیج کوکم کیاجاسکتاہے۔عوامی نمائندوں کے ذریعے ترقیاتی فیصلے کیے جائیں تاکہ شفافیت اوراعتمادکویقینی بنایاجاسکے۔عوام کی ایک بڑی شکایت یہ بھی ہے کہ قومی وسائل چندخاندانوں کے ہاتھوں میں مرکوزہیں اورعام شہری کوترقی میں شراکت داری کاموقع نہیں ملتا۔اگر قومی وسائل کومساوی بنیادوں پرتقسیم کیاجائے توعوام میں خودبخودپاکستانی شناخت مضبوط ہوگی۔
پاکستان قحطِ آب کے شکاردس بڑے ممالک میں شامل ہے۔حکومت بڑے ڈیم اورآبپاشی منصوبے بنانے کی کوشش کرتی ہے،مگر اس حوالے سے ہمیشہ اختلافات پیداہوتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال کالاباغ ڈیم ہے اوراب چولستان میں70لاکھ ایکڑپرزرعی منصوبہ ایک نئی بحث چھیڑچکاہے،جس پرسندھ اوردیگرصوبے اپنے خدشات کااظہارکر رہے ہیں۔پانی کی تقسیم،موسمیاتی تبدیلیاں،اورزراعت کے جدیدطریقے اس بحث کے اہم نکات ہیں۔لوگوں کویہ خدشہ ہے کہ ان منصوبوں کیلئے اضافی پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی اورپہلے سے موجودپانی کی دستیابی مزیدکم ہوجائے گی۔
جدیدزرعی طریقوں میں کارپوریٹ فارمنگ کوخصوصی اہمیت دی جارہی ہے،اورحکومت کاکہناہے کہ کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے پیداواری کارکردگی بڑھانا،برآمدات کوفروغ دینااورزرعی شعبے کوعالمی معیارکے مطابق ڈھال کرہم ملک میں زرعی انقلاب لاسکتے ہیں جوملک کی آبادی کے70فیصدکسانوں،کاشتکاروں کی زندگی میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے لیکن یادرہے کہ کاپوریٹ فارمنگ ایک ایسافارمولہ ہے جس کے ذریعے زیادہ پیداوارکیلئے جینیاتی طورپرترمیم شدہ اورہائیبرڈبیجوں کااستعمال کیا جاتاہے۔اگرچہ یہ بیج ابتدائی طور پرزیادہ پیداواردیتے ہیں لیکن طویل المدتی اثرات زمین کی زرخیزی کیلئینقصان دہ ثابت ہورہے ہیں۔مسلسل10سے20سال کے عرصے میں یہ زمین نامیاتی زرخیزی سے محروم ہوکربنجرہوسکتی ہے،جس سے مستقبل میں خوراک کے بحران کاخطرہ بڑھ جاتاہے۔
ماضی میں ہم اس کاتجربہ کرچکے ہیں۔1967سے1970کی دہائی میں ہائی برڈبیجوں،کیمیائی کھادوں،اورجدید آبپاشی کے ذریعے گندم اورچاول کی پیداواردوگنی ہوئی۔تاہم چھوٹے کسانوں تک رسائی کے فقدان،قرضوں کے بوجھ،اورمنڈیوں تک ناہمواررسائی کی وجہ سے غربت کم نہ ہوئی۔حکومت کامؤقف تھاکہ آبادی میں تیزی سے اضافے( 3% سالانہ)نے ترقی کے اثرات کوزائل کردیا، جبکہ نقادوں کاخیال تھاکہ فوائدفوج،بیوروکریٹس،اورسیاسی اشرافیہ تک محدودرہے۔
اب ایک مرتبہ پھرکارپوریٹ فارمنگ کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ ہم بڑھ رہے ہیں۔اس نظام کی مختصرتعریف یہ ہے کہ جہاں بڑے زرعی زمینوں پرتجارتی بنیادوں پرپیداواری سرگرمیاں،جہاں کمپنیاں یاکارپوریشنزجدیدٹیکنالوجی،مشینری،اورمینجمنٹ کے ذریعے فصلوں یامویشیوں کی پرورش کرتی ہیں وہاں ان وسائل سے محروم تمام کاشتکاران کمپنیوں کے رحم وکرم پرہوتے ہیں۔
پاکستانی حکومت کاکہناہے کہ حالیہ برسوں میں کارپوریٹ فارمنگ کوفروغ دینے کیلئے جواقدامات کیے ہیں،خاص طورپر2020 کے بعدجب ایک مرتبہ پھرزرعی اصلاحات کے نام پرپروگرام شروع کیاگیاہے جس میں غیراستعمال شدہ سرکاری زمینوں کولیز پردینے کی تجاویزکے ساتھ زرعی آلات اورجدیدٹیکنالوجی درآمدپرٹیکس چھوٹ دینابھی شامل ہے۔
چین ۔پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک کے تحت ایگریکلچرل انڈسٹریل پارکس قائم کرنے کی تجاویزپربھی کام ہورہاہے۔کارپوریٹ فارمنگ کیلئے ڈرون،مصنوعی ذہانت اور پریسائزن فارمنگ کے ذریعے پیداوارمیں اضافہ کے منصوبے کوبھی حتمی شکل دی جارہی ہے۔جس سے زرعی برآمدات (مثلاً گندم،چاول،کپاس)بڑھانے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کئی گنااضافہ ہوگا۔یقیناکارپوریٹ فارمنگ سے جہاں نئے ہنرمنداورغیرہنرمندروزگارکی تخلیق میں اضافہ ہوگاوہاں ڈرپ اریگیشن جیسے طریقوں سے پانی کی بچت بھی ہوگی ۔
کارپوریٹ فارمنگ میں جینیاتی طورپرتبدیل شدہ اورہائیبرڈبیجوں کااستعمال وقتی پیداواربڑھاتاہے لیکن یہ زمین کی نامیاتی زرخیزی کوتباہ کردیتاہے۔کیمیائی کھادوں اورکیڑے مارادویات کے مسلسل استعمال سے مٹی کابنیادی ڈھانچہ کمزورہوتاہے،اور 10-20سال میں زمین بنجرہوجاتی ہے۔مثال کے طورپر،پنجاب کے بعض علاقوں میں گندم کی پیداوار میں 30%تک کمی رپورٹ ہوئی ہے،جس کی وجہ مٹی کی نمکیات میں اضافہ اورنامیاتی مادوں کاخاتمہ بتایاجاتاہے۔
چولستان میں کارپوریٹ فارمنگ کے تحت ملکی وغیرملکی کمپنیوں کوزمین دی جارہی ہے۔سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور چین کی کمپنیاں پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ میں دلچسپی رکھتی ہیں۔انگروفوڈز،نیشنل فوڈزجیسی کمپنیاں زرعی شعبے میں سرگرم ہیں۔مگرسوال یہ ہے کہ کیااس کے فوائدچھوٹے کسانوں تک بھی پہنچیں گے؟جب کارپوریٹ فارمنگ کیلئے پہلے سے محدودپانی مختص کیاجائے گاتومقامی کسان کہاں کھڑے ہوں گے؟مزیدبرآں،کیاحکومت نے سرمایہ کاروں کوبتادیاہے کہ اگرکسی سال دریا میں مطلوبہ پانی نہ آیاتو ان کے فارمزکونقصان ہوگا؟چھوٹے کاشتکاروں کیلئے سہولیات اورمارکیٹ تک رسائی کویقینی بنائے بغیراس منصوبے کاکامیاب ہونامشکل نظرآتاہے۔(جاری ہے)