ٹک ٹاکر قتل کیس کی فوری پیشرفت، وزیر داخلہ کا پولیس کو شاباشی کا پیغام

ٹک ٹاکر قتل کیس کی فوری پیشرفت، وزیر داخلہ کا پولیس کو شاباشی کا پیغام

اسلام آباد کے سیکٹر جی-11 میں واقع ایک گھر میں 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو 2 جون کی رات بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

واردات کے بعد اسلام آباد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 20 گھنٹوں کے اندر قاتل کو فیصل آباد سے گرفتار کرلیا، جبکہ آلہ قتل اور مقتولہ کا آئی فون بھی برآمد کرلیا گیا۔

واقعے کی تفصیلات:
ذرائع کے مطابق، نقاب پوش حملہ آور رات کے وقت ثنا یوسف کے گھر میں داخل ہوا اور وہاں اس نے لڑکی کو تیز دھار آلے کے وار سے قتل کر دیا۔ ملزم واردات کے بعد موقع سے فرار ہو گیا تھا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کیے اور تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ڈیٹا اور انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے ملزم کا سراغ لگایا۔

گرفتاری اور اعتراف جرم:
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم فیصل آباد میں روپوش تھا اور ٹیکنیکل طریقے سے اس کی لوکیشن ٹریس کی گئی۔ ایک ٹیم نے چھاپہ مار کر اسے گرفتار کیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، اس کا مقتولہ سے کچھ عرصہ سے رابطہ تھا اور قتل کی وجوہات ذاتی نوعیت کی ہوسکتی ہیں، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

وزیرداخلہ کا بیان:
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کیس میں اسلام آباد پولیس کی کامیاب کارروائی پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا:"اسلام آباد پولیس نے ثناء یوسف قتل کیس کے ملزم کو 20 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا۔ ملزم سے آلہ قتل اور آئی فون بھی برآمد کیا گیا ہے۔ پولیس کی شاندار کارکردگی قابلِ تحسین ہے۔"
آئندہ کا لائحہ عمل:
پولیس کی تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے۔ امکان ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں اگر ملزم کے سہولت کار سامنے آئے۔ قتل کی وجوہات اور تفصیلات مکمل تفتیش کے بعد سامنے آئیں گی۔