علیمہ خانم نے میڈیا ٹاک میں کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ 85 فیصد خراب ہو چکی ہے اور انہوں نے علاج کے لیے ٹیسٹ کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور انہیں اور ان کی بہنوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔ علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ انہیں اور دیگر افراد کو کہا گیا ہے کہ سنجیدہ معاملات کے پیش نظر گیٹ نمبر پانچ سے ہٹ جائیں، کیونکہ عدالتوں میں خاص ججز لائے گئے ہیں جو کیسز سننے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسلام ہائی کورٹ سوا سال سے بانی اور بشری بی بی کے کیسز سننے کو تیار نہیں، اور ججز غیر معقول گیم کھیل رہے ہیں۔ اعتزاز احسن بیماری کے باوجود عدالت پہنچے اور کوشش کی، مگر پھر کہا گیا کہ اپیل کریں۔ علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ بانی کی آنکھ میں پہلے ٹیکہ لگنے کے بعد بہتری آئی تھی، لیکن اب ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کی آنکھ مستقل خراب ہو چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ٹیسٹ کیے جائیں اور علاج کروایا جائے کیونکہ بروقت علاج نہ ہونے کے سبب آنکھ کی 85 فیصد خرابی ہوئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کی بہن نے جیل میں سابق جیل سپرٹینڈنٹ کے خلاف درخواست دی تھی، جو غائب ہو چکی ہے، اور کہا کہ نظام کو صرف جیل میں رکھنے کے لیے تباہ کیا گیا ہے۔ علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات سے پہلے بانی پی ٹی آئی کو جیل سے نکالنا ضروری تھا تاکہ عالمی سطح پر اعتماد قائم رہے، کیونکہ موجودہ حکومت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، اور دنیا اس پر تبصرہ کر رہی ہے کہ جنہوں نے 50 فیصد ووٹ حاصل کیے، وہ جیل میں کیوں ہیں۔