یورپی یونین کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن کو لے جانے والا طیارہ بلغاریہ میں لینڈنگ کے دوران جی پی ایس جیمنگ کا شکار ہو گیا، تاہم خوش قسمتی سے جہاز محفوظ طریقے سے اترا۔
امریکی میڈیا کے مطابق، یورپی کمیشن کی نائب ترجمان اریانا پوڈیسٹا نے بتایا کہ بلغاریہ کے حکام نے جی پی ایس مداخلت کو روس سے منسوب کیا ہے۔ پائلٹس کو نیویگیشن سسٹم ناکارہ ہونے کے بعد کاغذی نقشوں کے ذریعے جہاز لینڈ کرانا پڑا۔یہ واقعہ صدر فان ڈیر لائن کے مشرقی یورپی ممالک کے دورے کے دوران پیش آیا، جس کا مقصد یوکرین کے لیے مزید سیاسی اور عسکری حمایت حاصل کرنا تھا۔ صدر فان ڈیر لائن روس کے خلاف یوکرین کی حمایت میں سرگرم رہیں اور یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ کیف کو مزید وسائل فراہم کریں۔ترجمان نے کہا کہ واقعہ صدر کے دورے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ وہ روسی خطرات کو قریب سے دیکھ رہی ہیں۔
حکام کو ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ آیا حملہ آوروں نے براہِ راست اسی پرواز کو نشانہ بنایا یا یہ عمومی مداخلت تھی۔ماہرین کے مطابق روس اسکینڈینیوین اور بالٹک ریاستوں میں بھی جی پی ایس جیمنگ کے ذریعے اپنے جہازوں اور کالینن گراڈ کے علاقے کا استعمال کرتا رہا ہے۔ یورپی یونین نے اس معاملے پر پہلے ہی متعدد روسی اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اور یہ واقعہ ممکنہ طور پر مزید سخت اقدامات کا سبب بن سکتا ہے۔