منامہ: بحرین میں اسرائیل کے نئے سفیر کی تقرری کے اعلان کے بعد عوامی غم و غصے نے شدت اختیار کر لی اور ہزاروں شہری دارالحکومت کی سڑکوں پر نکل آئے۔
مظاہرین نے منامہ میں قائم اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے زبردست احتجاج کیا۔احتجاج میں شریک افراد نے فلسطینی پرچم تھام رکھے تھے اور اسرائیلی فوج کی غزہ اور مغربی کنارے میں جاری جارحیت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ مظاہرین نے اسرائیل کے نئے سفیر کی تصاویر بھی نذرِ آتش کیں اور اپنی حکومت سے فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔عینی شاہدین کے مطابق احتجاج میں مختلف طبقات کے لوگ بڑی تعداد میں شریک تھے۔ اس دوران سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ کئی افراد کو گرفتار کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
خیال رہے کہ بحرین نے ستمبر 2020 میں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت اگست 2021 میں خالد الجلاہمہ کو تل ابیب میں بحرین کا پہلا سفیر مقرر کیا گیا، جبکہ دسمبر 2021 میں اسرائیل نے ایتان نائیہ کو منامہ میں اپنا پہلا سفیر نامزد کیا تھا۔ چند روز قبل اسرائیل نے بحرین میں اپنے نئے سفیر کی تقرری کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔