چناب کا سیلاب آج ملتان پہنچے گا، ہیڈ تریموں محفوظ

چناب کا سیلاب آج ملتان پہنچے گا، ہیڈ تریموں محفوظ

ملتان: دریائے چناب میں بھارت سے آنے والا تباہ کن سیلاب کل ملتان پہنچنے والا ہے۔

ملتان پہنچنے سے قبل روای کے سیلاب کا پانی بھی چناب میں شامل ہو جائے گا، جس سے شہر اور گرد و نواح میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔پروونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ سیلاب کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چناب میں پانی کا ریلا ہیڈ تریموں سے ملتان کے ہیڈ محمد والا کی طرف بڑھ رہا ہے اور تریموں کے ہیڈ ورکس کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ ہیڈ قادر آباد کو بچانے کے لیے دو حفاظتی بند توڑنے کے فیصلے کے ثمرات نچلے علاقوں میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ آج جھنگ میں رواز برج کی گنجائش کم تھی اور وہاں آنے والا پانی زیادہ تھا، تاہم بریچ کرنے کے فیصلے کی وجہ سے نقصان سے بچا جا سکا۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق، راوی میں سیلاب کا ریلا جو دو دن پہلے شاہدرہ سے گزرا، وہ اب ہیڈ سدھنائی پہنچ چکا ہے۔ ہیڈ سدھنائی کی گنجائش خطرناک حد کے قریب پہنچ گئی ہے اور اس کو بچانے کے لیے حفاظتی بند میں شگاف ڈالنا پڑ سکتا ہے۔ مائی صفورہ بند کے مقام پر بھی آج رات شگاف ڈالنے کا امکان ہے، اور اس کے قریب علاقوں سے 20 سے 24 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ ایک ہی وقت میں تین دریاؤں میں سپر فلڈ کی صورتحال ہے، اور جو سخت فیصلے کیے گئے وہ اب ثمرات دے رہے ہیں۔

ملتان اور دریائے چناب کا تاریخی پس منظر
ملتان ضلع دریائے چناب سے کافی دور واقع ہے اور یہ شہر کے مغرب میں بہتا ہے، جبکہ ملتان اور مظفر گڑھ کے درمیان قدرتی سرحد قائم کرتا ہے۔ تاریخی طور پر، چناب نے اپنا راستہ تبدیل کیا ہے؛ 1245ء سے پہلے یہ دریا ملتان کے مشرق میں بہتا تھا، لیکن 1397ء تک اس کا بہاؤ بدل کر شہر کے مغرب کی طرف منتقل ہو گیا۔چناب بالآخر دریائے ستلج سے مل کر دریائے پنجند بناتا ہے، اور ملتان کئی دریاؤں کے سنگم کے قریب واقع ہے۔

سیلاب کے خطرات
چناب کے قریب ہونے کی وجہ سے ملتان کے بعض علاقے خاص طور پر خطرے میں ہیں، اور 2025 کے مون سون کے دوران یہ خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ بھارت کی جانب سے راوی، ستلج اور چناب میں پانی چھوڑنے کے باعث دریا کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے ہیڈ محمد والا کے نزدیک کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔